اٹلی: ریفرنڈم میں ناکامی پر وزیراعظم مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Franco Origlia
Image caption ماتیو رینزی ڈھائی سال تک اٹلی کے وزیراعظم رہے ہیں۔

اٹلی میں وزیراعظم ماتیو رینزی نے آئین میں اصلاحات کے اپنے مجوزہ پلان کی عوامی ریفرنڈم میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ شب رات گئے ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نتیجے کی مکمل ذمہ داری لیتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں تاہم اصلاحات کے مخالفین کو اب واضح تجاویز پیش کرنی ہوں گی۔

ریاستی براڈ کاسٹر آر اے آئی کے ایگزٹ پول مطابق اصلاحات کی حمایت میں 42-46 فیصد ووٹ ڈالے گئے جبکہ ان کی مخالفت میں 54-58 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

ریفرینڈم میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے تاہم ابتدائی نتائج میں اصلاحات کی حمایت کرنے والوں کو ایگزٹ پولز کے مقابلے میں زیادہ بڑی شکست کا سامنا ہے۔

وزیراعظم ماتیو رینزی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ پیر کی دوپہر وہ اپنی کابینہ کے اجلاس میں اراکین کو آگاہ کر کے صدر کے پاس اپنا استعفیٰ جمع کروا دیں گے۔

ماتیو رینزی ڈھائی سال تک اٹلی کے وزیراعظم رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ان سے کہیں گے کہ وہ کم از کم آئندہ ماہ تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں جب تک پارلیمان اس سال کا بجٹ منظور نہیں کر لیتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MARCO BERTORELLO
Image caption اتوار کے روز ہونے والے ریفرنڈم میں اٹلی کے عوام نے آئینی اصلاحات مسترد کر دیں۔

وزیراعظم کا دعوی ہے کہ ان کی مجوزہ اصلاحات سے ملک میں بیوروکرسی میں کمی آنی تھی اور ملک میں کاپیٹشن بڑھنا تھا۔

تاہم عوامی رائے میں اس ریفرنڈم کو وزیراعظم کی صلاحیت کے بارے میں ان سے شکایت کا موقعہ سمجھا گیا۔

اٹلی میں آئینی اصلاحات کی مخالفت کی مہم کی قیادت فائیو سٹار موومنٹ نے کی جس کے سربراہ سابقہ مزاحیہ اداکار بیپے گرللو کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فائیو سٹار موومنٹ اس بات پر بھی ملک میں ریفرنڈم کروانا چاہتی ہے کہ اٹلی کو یورو کرنسی رکھنی چاہیے یا نہیں۔

اس ریفرنڈم میں پارٹی کے موقف کی بظاہر عوامی حمایت کے بعد یورو ڈالر کے مقابلے میں قیمت کھونے لگا ہے۔ اٹلی یورپ کی تیسری بڑی معیشت ہے اور اس کے استحکام کے بارے میں منڈیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں