سعودی عرب: ’ایران کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں 15 افراد کو سزائے موت

مشرقِ وسطیٰ تصویر کے کاپی رائٹ Chip Somodevilla
Image caption شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی سعودی عرب ایک دوسرے کو اپنا حریف مانتے ہیں

سعودی عرب میں ایک عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں 15 افراد کو سزائے موت اور متعدد کو قید کی سزا سنا دی ہے۔

یہ ملزمان ان 30 افراد میں شامل ہیں جنھیں تین سال قبل گرفتار کیا گیا اور اس سال فروری میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ان 30 افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق ملک کی شیعہ اقلیت سے ہے۔

ان افراد پر الزام تھا کہ انھوں نے جاسوسی کی ایک تنظیم بنائی تھی جس کا مقصد ملک میں مذہبی فرقہ واریت پھیلانا اور سعودی عرب کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچانا تھا۔

عدالت نے اس مقدمے میں دو افراد کو بری بھی کیا ہے۔

سعودی ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان ملزمان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق سعودی عرب کی فوج سے تھا اور ان پر ایران کو سعودی عرب کے عسکری راز فراہم کرنے کا الزام تھا۔

شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی سعودی عرب خطے کے دو اہم ممالک ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو اپنا حریف مانتے ہیں اور دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ اسی سال اگست میں ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے خلیج فارس سے ماہی گیری میں مصروف ایرانی کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

ایران کے کوسٹ گارڈ کمانڈر جنرل امین خودراوی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے خلیج فارس میں سفر کرنے والی ایرانی کشتیوں میں سوار 16 ملاحوں کو بھی حراست میں لیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں