دنیا میں ایسے والدین جنھیں بچوں کے ہونے پر پچھتاوا ہے

بچے تصویر کے کاپی رائٹ copyrightISTOCK

فرانسیسی مصنفہ کوہن مائیر کے دو بچے ہیں اور وہ اپنے چھوٹے بچے کے گھر سے نکلنے کا مزید انتظار نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹوں کی وجہ سے وہ تھک چکی ہیں اور دیوالیہ ہو گئی ہیں۔

ان کا ولدیت پر حملہ دنیا میں متعدد ماؤں اور والدوں کے خیالات سے ہم آہنگ ہے اور ان میں سے چند ایک خیالات بیان کیے گئے ہیں اور اس کے بعد میں ایسے بیانات بھی جو اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

بچے ہونے کا پچھتاوا

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میں اکیلی نہیں ہوں کہ جو ایک والدہ کے طور پر کنگال نہیں ہو گئی ہیں۔

اگرچہ میں اپنے دونوں بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں لیکن آج میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ دونوں نہیں ہونے چاہیے تھے۔ یہ صرف اس وجہ سے نہیں کہ دونوں بہت مہنگے ثابت ہوئے بلکہ ایک خاتون کو بچوں کی پرورش کے لیے اپنے کیریئر میں ترقی کی قربانی دینا پڑتی ہے۔تو اس میں ماں کے طور پر خوش ہونے کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن میں اب تھکاؤٹ محسوس کرتی ہوں اور اسے پورا نہیں کر سکتی۔

کلون، نام ظاہر نہیں کیا

میں ایسی شخصیت نہیں تھی جو کہ بچوں کے ساتھ اچھی ہو اور ایسا اب بھی ہے۔ میرا بچہ اب چھ برس کا ہے اور اب بھی مجھے اس کے ساتھ اور اس کے دوستوں کے ساتھ تعلق بنانے میں مشکل ہوتی ہے۔

عام طور پر میں خود کو اس کردار پر پورا اترتا ہوا محسوس نہیں کرتی۔ مجھے بس ماں ہونا پسند نہیں ہے۔

ایڈبنرا سے میری

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ مجھے بچے ہونے پر پچھتاوا ہے کیونکہ میں ان سے پیار کرتی ہوں لیکن اس میں توازن کے لیے اگر میں وقت کو پیچھے کروں اور خود کو بتاؤں کہ یہ کیسا ہے تو میں اس کی زحمت نہ کرتی۔ یہ صرف مختصر وقت کے لیے بہت ہی شاندار ہے۔ ان کے بغیر میرے پاس رقم ہوتی، آزادی ہوتی اور بہت ہی کم پریشانی کا سامنا ہوتا۔

ملے جلے جذبات

تصویر کے کاپی رائٹ Magnum Photos

اینجا، ماستریخت

میرے دو بیٹے ہیں اور میں ان سے اس وقت تک پیار کرتی ہوں جب تک تھک نہیں جاتی اور روزانہ ہونے والا شور شرابا ختم ہوتا محسوس نہیں ہوتا ہے۔

میں صبر کیا کرتی تھی اور میرا دماغ کام کرتا تھا اور اب یہ لگتا ہے کہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ یہ سب معمولات، نیند، خوراک، کپڑوں، صفائی ستھرائی اور کھیلنے کے میدانوں اور صحیح طریقے سے نشوونما، ٹھیک کھلونوں کا انتخاب، کیا کہنا اور کیا نہیں کہنا، چیزوں کو ذاتی طور پر کرنے کی کوشش، اور جب یہ مشکل ہو جاتا ہے تو میں بغیر بچوں کے زندگی پسند کروں گی لیکن لیکن جب آپ سے کوئی جھپی ڈالتا ہے اور بوسہ دیتا ہے اور یا کوئی پہلی بار کچھ زبردست کرتا ہے تو میں یہ سب دنیا کے لیے چھوڑ نہیں سکتی۔

کوئی پچھتاوا نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

برائن، اوہائیو

بچوں کا ہونا میری زندگی کی بہترین چیز ہے۔ اس کے ساتھ یہ مشکل کام بھی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کسی کو یہ خیال کہا سے آتا ہے کہ والدین ہونا ایک آسان کام ہے اور اس سے فوری خوشی محسوس ہوتی ہے۔ کسی بھی صورتحال میں خوش رہنا ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے لیے آپ کو لمبےعرصے تک کام کرنا پڑتا ہے۔

کیرن، ورجینیا

مجھے بچوں کے بغیر ہونے کا تصور ہی نہیں کر سکتی۔ اپنی ذات پر توجہ رکپنے والی شخیصت کے طور پر یہ(بچے) مجھے اپنے ٹیچرز، کوچز اور دوسرے والدین کے ذریعے دنیا سے جوڑتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ اس وقت تک انتظار کریں گے جب یہ بچے کو پالنے کے قابل نہیں ہو جاتے اور تو اس پر انھوں نے کہا کہ اگر آپ ایک بچے کو پالنے کے قابل ہونے کا انتظار کرو گی تو کوئی بھی نہیں ہو گا۔ ہمارے بچے، اور پوتے پوتیاں ہیں کیونکہ یہ قدرت کی حیرت انگیزی کو دوبارہ متعارف کراتے ہیں اور ان کے پاس منفرد ظاہری نسبت ہے جو ہمیں پرمسرت بناتی ہے۔

اسی بارے میں