مقبوضہ غرب اردن میں تعمیرات کو قانونی حیثیت دینے کے بل کی ابتدائی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلسطینی ان بستیوں کو اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کی راہ میں ایک بڑی رکاؤٹ سمجھتے ہیں

اسرائیل میں رکن پارلیمان نے غرب اردن میں ہزاروں بلااجازت تعمیر کیے گئے ہزاروں مکانات کو قانونی حیثیت دینے کے متنازع بل کی ابتدائی حمایت کی ہے۔

اس قانون کا اطلاق حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر کیے گئے مکانات پر ہو گا اور یہ اس علاقے میں ہیں جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔

اسرائیل نے یونیسکو سے تعلقات منجمد کر دیے

اس بل کے تحت چار ہزاروں گھروں کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی جبکہ اس بل کو قانون حیثیت ملنے میں ابھی اسرائیلی پارلیمان سے تین منظوریاں درکار ہیں۔

اس بل کے بڑے حمایتی اور وزیر تعلیم نفتالی بیننٹ نے کہا ہے کہ بالاخر زیادہ تر مقبوضہ علاقے پر اسرائیل کے ساتھ الحاق کا آغاز ہے۔

اس مجموزہ قانون پر اسرائیل کے قریبی حلیف امریکہ سمیت بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔

ان بستیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم پیس ناؤ کے مطابق اس وقت غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں 130 بستیاں اور مکانات ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت عالمی برادری مقبوضہ علاقے میں یہودی بستیوں کو غیر قانونی تصور کرتی ہے جبکہ اسرائیل اس موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔

فلسطینی ان بستیوں کو اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کی راہ میں ایک بڑی رکاؤٹ سمجھتے ہیں۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں تعمیر کی جانے والی تمام بستیوں کو ختم کر دیا جائے کیونکہ یہ علاقہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں