شام: ’حلب کے قدیم علاقے پر حکومتی فوج کا کنٹرول بحال`

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج پہلے ہی باغیوں کے زیر انتظام 70 فیصد علاقوں پر قبضہ کر چکی ہیں۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شام میں حلب شہر کے قدیم علاقے ’اولڈ سٹی‘ پر حکومتی فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب حکومتی فوج کی پیش قدمی کے بعد باغی فورسز نے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔

حلب کے قدیم علاقے پر گذشتہ چار برس سے باغیوں کا قبضہ تھا۔

شامی فوج اس مشرقی حلب کے دو تہائی علاقے کنٹرول کرتی ہے اور ان کی اب کوشش ہے کہ حلب کے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔

تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اب بھی باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد محصور ہیں جہاں خوارک کی اشیا ختم ہو چکی ہیں اور ان علاقوں میں طبی سہولیات بھی موجود نہیں۔

اس سے قبل منگل کے روز شامی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے شہر میں الشعر نامی علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے شہر میں شیخ الفطی اور مارجہ نامی علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے۔

دریں اثنا شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ پرانے شہر کے تین قصبوں میں مسلح باغی گروہ ’ٹوٹ‘ رہے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ’حلب ایئر پورٹ کے مضافاتی علاقے بھی مکمل طور پر چھڑا لیے گئے ہیں۔‘

تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس شامی صدر بشارالاسد کا اہم اتحادی ہے اور وہ ستمبر 2015 سے باغیوں کے خلاف فضائی حملے بھی کرتا رہا ہے

اس کے علاوہ منگل کو ہی روس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ حلب میں باغیوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات امریکہ نے ختم کر دیے تاکہ وہ ممکنہ طور پر باغیوں کے انخلا کروا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسا لگتا ہے کہ باغیوں کو کچھ وقت دینے اور دوبارہ متحد ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کی کوشش ہے۔‘

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ امریکہ مذاکرات میں تاخیر کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں تاخیر کے لیے کسی بات کو مسترد کرنے کے حوالے سے مجھے علم نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ روس شامی صدر بشارالاسد کا اہم اتحادی ہے اور وہ ستمبر 2015 سے باغیوں کے خلاف فضائی حملے بھی کرتا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں