’حلب سے نکلنے والے مرد اور لڑکے لاپتہ ہو رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ حلب میں باغیوں کے علاقوں سے نکلنے والے سینکڑوں مرد اور لڑکے مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں شامی فوج نے حلب کے کم از کم 75 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق جمعرات کو انسانی بنیادوں پر جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دسیوں ہزار افراد حلب سے نکلے ہیں۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ مردوں اور لڑکوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں اب سامنے آنی شروع ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق کے ترجمان روپرٹ کولوِل نے کہا کہ حراست میں رکھنے کے حوالے سے شامی حکومت کا ریکارڈ بہت خراب ہے اسی لیے اقوام متحدہ کو ان مردوں اور لڑکوں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات ہیں جو حلب کے باغیوں کے علاقے سے شامی حکومت کے کنٹرول علاقوں میں آئے ہیں۔

اس سے قبل روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں شامی افواج نے فوجی کارروائی معطل کر دی ہے۔

اس اقدام کا مقصد جنگ زدہ علاقے میں پھنسے شہریوں کا انخلا ہے۔ سرگئی لاروف کا کہنا ہے مزید 8000 افراد کا انخلا ہوا ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ 'صورتحال کے حوالے سے ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ روسی جو کہتے ہیں انھیں احتیاط سے سنیں لیکن ان کے عملی اقدامات پر نظر رکھیں۔'

اس سے قبل حلب میں مقامی کونسل کے رہنما نے خبردار کیا تھا کہ شہر میں 'ڈیڑھ لاکھ افراد کو موت کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔'

جنیوا میں اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ ملاقات میں بریتا حاجی حسن نے کہا کہ حلب میں گذشتہ چار ہفتوں میں 800 افراد ہلاک اور 3500 زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ اور قتل، بمباری اور خون خرابے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔'

واضح رہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اس سال ستمبر میں حلب شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں