’حلب میں فوج کا آپریشن آخری مرحلے میں داخل، ہزاروں شہریوں کا انخلا‘

حلب، شامی افواج تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام میں حکومتی افواج کا حلب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جبکہ حلب سے نکلنے والے افراد کو قتلِ عام سے بچانے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مذاکرات جاری ہیں۔

شام میں حکومتی افواج کی اتحادی روس کی وزارتِ دفاع کے مطابق سنچر کو بارہ سو باغیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

٭ شام کے شہر حلب میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ

٭ شام کے شہر حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا دوبارہ آغاز

روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سنیچر کو باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب سے 20 ہزار شہریوں کا انخلا ممکن ہوا جبکہ دو دنوں میں مجموعی طور پر 50 ہزار افراد شہر سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔

آزاد ذرائع سے اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کے انخلا کی تصدیق کرنا ناممکن ہے لیکن جنگ میں شدت آنے کے بعد وہاں سے ہزاروں لوگ پناہ کی تلاش میں سرکاری علاقوں کی طرف نکل آئے۔

یاد رہے کہ شامی فوج نے حالیہ ہفتوں میں باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب شہر کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے قتل کیے جانے کے خوف کی وجہ کئی باغی جنگجو ہتھیار نہیں ڈال رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں موجود باغی اُسی وقت ہتھیار ڈالیں گے جب حکومتی افواج پیش قدمی کریں گی۔

ادھر امریکی اور روسی حکام سنیچر کو جنیوا میں حلب کی صورتِحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔

پیرس میں شام کی صورتحال پر ہونے والی ایک الگ کانفرنس میں شریک امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام اور اتحادی ملک روس پر زور دیا ہے کہ جیسے جیسے شامی افواج حلب میں پیش قدمی کر رہی ہیں وہ اعلی ظرف کا مظاہرہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جان کیری نے تسلیم کیا کہ دمشق اور ماسکو کو جنگ میں سبقت حاصل ہوئی ہے لیکن انھوں نے کہا کہ جس کے پاس زیادہ اختیار ہے وہ مذاکرات شروع کرنے میں زیادہ رعایت کا مظاہرہ کرے۔

جان کیری نے کہا کہ روسی اور امریکی فوجی ماہرین کی جنیوا میں جاری بات چیت کے دوران امریکی فوجی ماہرین اس بات کی ضمانت دینے میں معاونت کریں کہ حلب سے نکلنے والے باغیوں کا قتلِ عام نہ کیا جائے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے شام کے بارے میں خصوصی ایلچی نے خبردار کیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے حلب کی لڑائی بڑی حد تک جیت لی ہے لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

سٹیفان ڈے مستورا نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کے مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے بارے میں سنجیدہ بات چیت ہی امن حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

اسی بارے میں