'پیلمائرا ایک بار پھر دولت اسلامیہ کے قبضے میں'

پیلمائرا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تدمر یا پیلمائرا کے اس قدیمی شہر کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ یہ ایک بار پھر نام نہاد جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلا گيا ہے

عراق و شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نو ماہ بعد ایک بار پھر شام کے قدیم شہر تدمر یا پیلمائرا میں داخل ہو گئی ہے۔

شام کے حالات پر نظر رکھنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں اور حکومت نواز فوجیوں کے درمیان پیلمائرا کے مرکز میں خونریز جنگ ہوئی ہے۔

وہاں سے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ شہر اب بہت حد تک دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں ہے۔'

٭ پیلمائرا میں اجتماعی قبر کی دریافت

٭ پیلمائرا کی فتح، اسد کے لیے نئی زندگی

پیلمائرا سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گيا ہے کہ اس جنگ میں کم از کم 50 شامی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور باقی جنگجوؤں کے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کی غیرمصدقہ رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں۔

شہر میں بچ جانے والے عام لوگوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی جار ہی ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد کے لیے یہ حیران کن شکست ایسے وقت میں ملی ہے جب روس کی حمایت یافتہ شامی افواج باغیوں کے قبضے والے علاقے، بطور خاص حلب میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پیلمائرا اور اس کے مضافات میں موجود قدیمی کھنڈروں پر دس ماہ قبل تک دولت اسلامیہ کا قبضہ تھا جسے شامی حکومت نے مارچ میں دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC ARABIC PHOTOGRAPHER WISSIM ABDO
Image caption دس ماہ قبل پیلمائرا اور اس کے مضافات پر دولت اسلامیہ کا قبضہ تھا

لیکن جنگجوؤں نے رواں ہفتے کے اوائل میں اس علاقے پر حملہ کر دیا۔ اس سے قبل جب دولت اسلامیہ سے عہد روما کے اس قدیم شہر کو حاصل کیا گيا تھا تو شامی فوج کی حمایت روسی فوج نے کی تھی۔

اس کے بعد سے دونوں افواج نے حلب اور دمشق میں مقامی مخالفین کے خلاف لڑنے پر توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔

بیروت سے ہمارے نامہ نگار ٹامس مورگن کا کہنا ہے کہ مارچ میں جب حکومتی افواج نے پیلمائرا پر قبضہ کیا تھا تو علاقے کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے پوری طرح پاک نہیں کیا جا سکا تھا۔

پیلمائرا کوراڈینیشن کولکٹیو نامی رضاکار تنظیم کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ نے تین دنوں کی لشکر کشی کے دوران شہر کے فوجی گودام سیمت شمالی اور مغربی اضلاع کے ساتھ ساتھ حکومت کے ٹھکانوں، تیل کے کنووں اور دیہی مضافات میں عسکری اہمیت کے حامل بلند مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم سیريئن آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو شہر کے ہسپتال اور انتہائی اہمیت کے حامل گندم کے گوداموں تک پہنچ گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں