پیداوار میں کمی کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دو سال سے زیادہ عرصے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آدھی سے زیادہ کم ہوئی ہیں

تیل پیدا کرنے والے غیر اوپیک ممالک کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ تیل کی پیداوار میں کمی کریں گے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خام تیل کی قیمت 57.89 ڈالر فی بیرل بڑھی ہے جو کہ جولائی 2015 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد یہ 56.79 ڈالر پر رک گئی جو کہ پھر بھی اس دن 4.5 فیصد زیادہ ہے۔

سنیچر کو غیر اوپیک ممالک نے ایک معاہدے کے بعد اپنی پیداوار میں یومیہ 558000 بیرل کی کمی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ضرورت سے زیادہ رسد میں کمی اور قیمتوں میں بہتری لانا تھا۔

گذشتہ ماہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی پیداوار میں کمی لائے گا۔

جنوری سے اوپیک سپلائی میں یومیہ 1.2 ملین بیرل کی کمی لائے گا۔ نیا معاہدہ گذشتہ 15 برس میں پہلا عالمی معاہدہ ہے۔

اے برنسٹین کے ایک تجزیہ کار کہتے کہ 2017 کے آغاز میں تیل کی پیداوار میں کمی کے لاگو ہونے کے بعد تیل کی مارکیٹیں اضافے سے کمی کی طرف چلی جائیں گی۔

لیکن کچھ ماہرین معاہدے کے قیمتوں میں دور رس اثرات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سٹینڈرڈ لائف انویسٹمنٹس کے انویسٹمنٹ ڈائریکٹر تھامس موور کہتے ہیں کہ 'آپ آج تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھیں گے، جو کہ سمجھ میں آتا ہے، لیکن میرے خیال میں آپ کو اسے دوسری چیزوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔'

'یہ 550000 بیرل یومیہ کی کمی ہے، اور یقیناً ہم نے اوپیک کی پیداوار تقریباً ایک ملین کم کر دی ہے۔

'لیکن اگر آپ دنیا کی مجموعی پیداوار دیکھیں تو اوپیک 33 ملین بیرل یومیہ پیدا کر رہا ہے، سو ڈیڑھ ملین کا نمبر اچھا ہے لیکن یہ اتنا بھی اچھا نہیں ہے۔

'اور اوپیک دنیا کے خام تیل کا 40 فیصد پیدا کرتا ہے، سو ہاں یہاں ایک دن کا اثر ہے، لیکن میرے خیال میں یہ صرف کناروں پر ہے۔'

سنیچر کے معاہدے میں شامل ہونے والوں میں روس، میکسیکو اور بحرین بھی شامل ہیں۔

یہ معاہدہ تیل کی قیمتوں میں دو سال سے زیادہ عرصے تک مایوس کن کمی کے بعد ہوا ہے، جس دوران قیمتیں آدھی سے زیادہ کم ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں