کفالہ کا نظام کیا ہے؟

کفالہ کے نظام کا اطلاق خلیجی ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں پر ہوتا ہے۔

اس کے تحت کسی بھی خلیجی ملک میں کام کرنے کے لیے کارکن کے لیے ایک کفیل یا سپارنسر کا ہونا ضروری ہے جو اس کے ریزیڈنسی اور ملازمت کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

اپنے ملازمت کے آغاز میں کارکن اپنا پاسپورٹ اور تمام تر شناختی دستاویزات اپنے کفیل کے پاس جمع کرانے کا پابند ہوتا ہے۔

اس نظام کا اطلاق مقامی عرب آبادی کے گھروں میں کام کرنے والے ذاتی ملازمین سے لے کر بڑی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین پر ہوتا ہے۔

کفالہ کے نظام کرنے تحت کفیل یا سپانسر کارکنوں کی بھرتی کے لیے ان کے اپنے ملکوں میں کام کرنے والی ریکروٹمنٹ کمپنیوں کو فیس اور خلیجی ملک سفر کے لیے کرایہ ادا کرتا ہے۔

خلیجی ملک میں آمد کے بعد کفیل اپنے ماتحت کام کرنے والے کارکنوں کی تمام معاشی اور قانونی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

اگرچہ کارکن کے ویزے کا سٹیٹس اپنے کفیل کے ساتھ منسلک ہوتا ہے لیکن تمام معاملات میں وہ ریکروٹمنٹ ایجنسی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا پابند ہوتا ہے۔

اگر کارکن اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور یہ ثابت ہو جائے تو کفیل اس کا ذمہ دار نہیں ہے تو کارکن کو ریکروٹمنٹ فیس ادا کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کارکن اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر اپنی ملازمت تبدیل نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکتا۔

بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اومان میں کام کرنے والے کارکن اس نظام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

کفالہ کے نظام تحت بعض کفیل اپنے کارکنوں سے غلاموں جیسے سلوک کرتے ہیں اور غیر ملکی کارکنوں میں کفیلوں کے خلاف شکایات عام سننے میں آتی ہیں۔

کفیلوں کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں میں تنخواہ کا وقت پر ادا نہ کیا جانا، گالی گلوچ، مارپیٹ اور کارکنوں پر لگائی جانے والی ناجائز پابندیاں قابلِ ذکر ہیں۔

کفالہ کے نظام کے تحت سب سے زیادہ پیچیدگیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کارکن اپنے کفیل کو بتائے بغیر کام سے غیر حاضر ہو جاتے ہیں۔

ایسی صورت میں کارکن کی حیثیت ایک مجرم کی سی ہوتی ہے اور پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں سے چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔

انہیں اکثر خلیجی ممالک کے عدالتی نظام سے بروقت انصاف نہیں ملتا با وجود اس کے کہ وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور کفیل نے ان سے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

کارکن کو عدالتی کارروائی کے دوران کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر وہ غیر قانونی طور پر چوری چھپے کام کریں تو ان کی پوزیشن مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں