ٹرمپ پر حملے کی کوشش کرنے والے نوجوان کو قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مائیکل سینڈفورڈ کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔

امریکہ میں ایک برطانوی شہری کو نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر صدارتی انتخابی مہم کے دوران ایک ریلی میں قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کے جرم میں 12 ماہ اور ایک روز قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ستمبر میں 20 سالہ مائیکل سینڈفورڈ نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہونے، ہتھیار رکھنے اور ایک سرکاری تقریب میں خلل پیدا کے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے امریکی شہر لاس ویگاس میں ایک ریلی کے دوران وہاں تعینات پولیس اہلکار کی پستول چھیننے کی کوشش کی تھی۔

مائیکل سینڈفورڈ کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مائیکل سینڈفورڈ کو ابتدائی طور پر قاتلانہ حملے کے جرم میں دس سال قید کا سامنا تھا۔

ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ وہ چار ماہ میں قید سے رہائی کے اہل ہو جائیں گے جس کے بعد انھیں برطانیہ ملک بدر کر دیا جائے گا۔

ان کے وکیلِ دفاع کا موقف کا تھا کہ ان کے موکل ذہنی مریض ہیں۔

گرفتاری کے بعد مائیکل نے سیکریٹ سروس کو بتایا کہ ان کی کوشش تھی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کر دیں۔ تاہم ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ مائیکل کو کبھی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ مائیکل نے ایسا کیوں کیا۔

لاس ویگاس کی عدالت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کُک نے بتایا کہ جج مائیکل کے ساتھ قدرے رحم دل انداز میں پیش آئے اور انھوں نے ملزم سے کہا کہ آپ کو ذہنی بیماری ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں آپ کے دل میں عداوت نہیں تھی۔

مائیکل سماعت کے دوران رونا شروع ہوگئے اور انھوں نے عدالت سے اپنے کیے پر اور عوام کے وسائل پر بوجھ بننے کے لیے معافی مانگی۔

عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق مائیکل سینڈفورڈ امریکہ میں اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود مقیم تھے، اور یہاں وہ بے گھر تھے۔

اسی بارے میں