حلب سے چار ہزار جنگجو اور اہل خانہ کے انخلا کی تیاریاں مکمل

حلب شہر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب کا شہر کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے

شام کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب سے چار ہزار باغیوں اور ان کے خاندان والوں کے انخلا کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں اور حلب جلد ہی اسلحے اور جنگجوؤں سے پاک ہو جائے گا۔

ریاستی ٹی وی چینل پر فوٹیج دکھائی جا رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ جنوبی حلب کے علاقے رموسہ میں سبز رنگ کی بسی قطار میں کھڑی ہیں۔

تاہم مشرقی حلب سے زخمیوں کو نکالنے والی ایمبولینسوں کو اس وقت واپس ہونا پڑا جب ان پر فائرنگ کی گئی۔

* حلب میں شدید لڑائی کی وجہ سے انخلا رک گیا

* ’حلب کے محصور علاقوں میں زندگی جہنم ہے‘

* شامی فوج حلب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے قریب

اس سے قبل شام کے مشرقی حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے سے شہریوں کو نکالنے کے لیے نئے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔

باغیوں نے اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ عام شہریوں اور باغی جنگجوؤں کا انخلا جمعرات کی صبح شروع ہو گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں شہری موجود ہیں ان پر شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شدید بمباری بہت حد تک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حلب میں ان علاقوں پر بےدریغ بمباری کیا جانا جہاں اب بھی باغی موجود ہیں غالباً جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں باغی اب بھی موجود ہیں وہاں شدید بمباری کی جا رہی ہے اور ان علاقوں میں 50 ہزار سے زیادہ شہری بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقی حلب پر 2012 سے باغیوں کا قبضہ تھا

حلب میں ایک دن کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ 82 شہریوں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا شام کی حکومت کی واضح طور پر ذمہ داری ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ جس طرح تباہ اور بربادی کا شکار آبادی کو جنگ بندی کے معاہدے کی صورت میں ایک جھوٹی امید دلائی گئی اور ایک ہی دن بعد ان سے یہ امید بھی چھین لی گئی وہ انتہائی ظالمانہ ہے۔

دریں اثنا بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مغربی طاقتوں کی جانب سے سیٹلائٹ اور ڈرون طیاروں کی مدد سے حلب اور شام کے دوسرے شہروں میں جنگی جرائم کے شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

مشرقی حلب پر سنہ 2012 سے باغیوں کا قبضہ ہے لیکن گذشتہ چند ماہ میں شامی فوج کے شدید حملوں اور روسی فوج کی بمباری کی وجہ سے باغی شہر کے ایک حصے تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔

حلب شہر پر قبضے اور جنگجوؤں کو شکست دینے کی خبر کو صدر بشار الاسد کی حکومت ایک بڑی فتح کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔

حلب میں شامی فوج کی فتح صرف صدر بشار الاسد کی حکومت کے لیے فتح نہیں ہوگی بلکہ یہ ان کے اتحادی ایران اور روس کے لیے بھی فتح ہے۔

اسی بارے میں