ہٹلر کے آبائی گھر کے حصول کے لیے قانون سازی

ہٹلر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کئی سالوں پر محیط تنازعے کے بعد آسٹریا کی پارلیمان نے اس گھر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے قانون سازی کی ہے جہاں 1889 میں آڈوف ہٹلر پیدا ہوئے تھے۔

اس گھر کی موجودہ مالک جرلائنڈ پومر نے تواتر سے اس عمارت کو بیچنے یا اس کی تزئین و آرائش کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔

مسز پومر کو اب زرِ تلافی دیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت اس سابق گیسٹ ہاؤس کے ساتھ کیا کرے گی۔

حکام اسے نیو نازی کارکنوں کے لیے ایک زیارت گاہ بننے سے روکنے کے خواہاں ہیں۔

پارلیمان کے اس فیصلہ سے حکومت اور مسز پومر کے مابین طویل عرصے سے جاری اس تنازعے کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

کئی سالوں تک حکومت نے مسز پومر کو اس مقصد کے لیے اچھی خاصی رقم دیتی رہی ہے کہ وہ اس تین منزلہ عمارت کو نیو نازی سیاحت کے مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہونے دے گی۔

ماضی میں ایک مقامی خیراتی ادارہ اسے ایک ڈے سنٹر اور خصوصی افراد کے لیے ایک ورکشاپ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔

لیکن اس خیراتی ادارے کو اس وجہ سے اسے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا جب مسز پومر نے اسے اس کی تزئین و آرائش سے روک دیا۔

اس عمارت کے مستقبل کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر بحث ہوتی رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس کو گرا دیا جائے جبکہ کچھ دیگر افراد اس کے استعمال کو تبدیل کرنے کے حق میں تھے۔

مورخین کے ایک پینل کا، جسے اس معاملے پر رائے دینے کا کہا گیا تھا، خیال تھا کہ اس عمارت کو گرانا آسٹریا کے نسل پرستانہ یا نازی خیالات پر مبنی ماضی سے انکار کے مترادف ہے۔

کئی کلچرل تنظیمیں اس عمارت کو اندرون شہر کے تاریخی حصہ ہونے کی حیثیت سے اسے محفوظ کرنے پر زور دے رہی تھیں۔

ہٹلر آسٹریا اور جرمن کے سرحد کے قریب واقع اس عمارت کی سب سے اوپر کی منزل پر واقع کرائے کے کمرے میں 20 اپریل 1889 کو پیدا ہوئے تھے۔

نازی اقتدار کے دوران اس گھر کو ہٹلر کی ایک زیارت گاہ میں تبدیل کر دیا گیا تھا جہاں سیاح جوق در جوق آتے تھے۔

لیکن جب 1944 میں نازیوں کا اقتدار کمزور پڑا تو اسے بند کر دیا گیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ عمارت ابھی بھی نیو نازی حامیوں کی توجہ حاصل کرنی ہے باوجود اس کے کہ مقامی حکام انہیں اس بات سے روکنے کی کوششیں کرتے ہیں