امریکہ: جھوٹی کہانی بیان کرنے پر مسلمان لڑکی گرفتار

یاسمین تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption یاسمین سوید پر جھوٹی رپورٹ ررج کروانے اور سرکاری انتظامیہ پر رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان مسلم لڑکی کو نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے نیویارک سب وے پر ہراساں کیے جانے کی جھوٹی کہانی بیان کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

18 سالہ مسلمان لڑکی یاسمین سوید کا کہنا ہے کہ تین آدمیوں نے انھیں 'دہشت گرد' کہا۔

یاسمین سوید پر جھوٹی رپورٹ درج کروانے اور سرکاری انتظامیہ پر رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یاسمین نے بعد میں پولیس کے سامنے تسلیم کیا کہ انھوں نے بہت زیادہ شراب پی رکھی تھی اور انھوں نے اس کہانی کو عذر کے طور پر پیش کیا۔

این بی سی کے مطابق 19 سالہ طلبعلم نے پولیس کو بتایا کہ ان تین آدمیوں نے انھیں 'اس ملک سے نکل جانے کو کہا' اور 'اپنے سر سے حجاب کو اتارنے کا کہا۔'

یاسمین کا کہنا تھا کہ یکم دسمبر کو پیش آنے والے اس مبینہ واقعے میں ان تین آدمیوں نے ان کا حجاب پھاڑنے کی کوشش کی اور اس دوران وہاں پر موجود افراد نے اس معاملے میں دخل اندازی نہیں کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان میں سے ایک شخص نے ان کا بیگ پکڑا جس کی وجہ سے اس کی زپ ٹوٹ گئی۔

این بی سی کے مطابق یاسمین نے اس واقعے کے اگلے دن فیس بک پر کہا 'اس واقعے نے میرا دل توڑ دیا کیونکہ وہاں پر موجود بہت سے افراد مجھے ان سورؤں کی جانب سے زبانی اور جسمانی طور پر ہراساں ہوتے دیکھتے رہے۔'

اطلاعات کے مطابق حکام کو اس واقعے پر اس وقت شبہ ہوا جب انھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

گذشتہ جمعے کو اس خاتون کی گمشدگی کی خبریں امریکی میڈیا میں شائع ہوئیں تاہم اس کے ایک ہی دن بعد ان کا پتہ چل گیا۔

یاسمین کو بدھ کو گرفتار کیا گیا، انھوں نے تسلیم کیا کہ اپنے والدین کو پریشانی سے بچانے کے لیے انھوں نے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

یاسمین پر مین ہٹن کریمنل کورٹ میں الزام عائد کیا گیا جہاں وہ بغیر کسی نقاب کے پیش ہوئیں اور انھوں نے سر کے بال بھی کٹوا رکھے تھے۔

نامعلوم ذرائع نے نیویارک اخبار کو بتایا کہ یاسمین کے والدین نے اس واقعے کے بعد انھیں اپنے بال کٹوانے پر مجبور کیا۔