سپین میں 200 چینی باشندے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار

سپین تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام کا کہنا ہے انھوں نے میڈرڈ، باسیلونا اور الیکانتے میں 13 کال سینٹروں کا پتا لگایا ہے اور انھیں بند کر دیا

سپین میں حکام کے مطابق پولیس نے 200 سے زائد چینی باشندوں کو مالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

یہ گرفتاریاں کال سینٹرز سے متعلق ایک کروڑ ساٹھ لاکھ یورو پر مشتمل بدعنوانی کی تحقیقات سے منسلک ہیں۔

ان مشتبہ افراد نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے چینی خاندانوں کو قائل کیا تھا کہ وہ بینک میں رقم جمع کروائیں۔

حکام کا کہنا ہے انھوں نے میڈرڈ، بارسیلونا اور الیکانتے میں 13 کال سینٹروں کا پتا لگایا ہے اور انھیں بند کر دیا ہے۔

اس کارروائی میں 600 اہلکاروں نے حصہ لیا۔

ہسپانوی پولیس کے کرائم کمشنر الوئے کوئروس نے نیوز کانفرنس میں بتایا: ’ہم ہزاروں چینی شہریوں کی بات کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے، جن کی جمع پونجی لوٹ لی گئی ہے۔‘

اس گروہ پر الزام ہے کہ انھوں نے سپین سے چین میں لوگوں سے ٹیلیفون پر رابطے قائم کیے اور دوست یا رشتے دار ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو مختلف بدعنوانیوں کے بارے میں خبردار کیا۔

اس کے بعد اسی گروہ کے افراد خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے کال کرتے اور دعویٰ کرتے کہ وہ بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس کے بعد ان افراد کو حکام کے ساتھ مدد کرنے کا کہتے ہوئے بنک اکاؤنٹس میں رقوم جمع کروائے کا کہا جاتا۔

گرفتار کیے جانے والے مشتبہ افراد میں زیادہ تر وہ چینی باشندے شامل ہیں جو سیاحت کے غرض سے سپین آئے اور پھر یہیں قیام پذیر ہوگئے۔

چین نے ان تحقیقات میں ملوث اپنے تمام شہریوں کو چین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں