امریکہ ہیکنگ کے ثبوت لائے یا پھر خاموش رہے: روس

روس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جاش ارنیسٹ کا کہنا تھا کہ 'صاف ظاہر ہے' کہ صدر پوتن اس میں ملوث تھے

روس نے امریکہ کی جانب سے صدارتی انتخابات میں روس کے ملوث ہونے کے الزام کے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ روسی ہیکنگ کے ثبوث سامنے لائے ورنہ خاموش ہو جائے۔

روس کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کے حوالے سے روسی مداخلت کے دعوے انتہائی ’نازیبا‘ ہیں۔

روسی صدر ولادمیر پوتن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو یا تو یہ بات کرنا ختم کرنی چاہیے یا پھر اس کا ثبوت پیش کرے۔

’انتخاب میں مداخلت پر روس کے خلاف کارروائی کریں گے‘

’روس نے ٹرمپ کی حمایت میں انتخابی عمل میں مداخلت کی‘

یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ مداخلت کرنے پر روس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے اس بات کا بھی اشارہ دیا تھا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت میں روسی صدر ولادمیر پوتن خود ملوث تھے۔

صدر اوباما کے مشیر بن روڈز کا کہنا تھا کہ صدر پوتن حکومتی اقدامات سختی سے کنٹرول کرتے ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی انتخابات میں مداخلت کا انھیں علم تھا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جاش ارنیسٹ کا کہنا تھا کہ ’صاف ظاہر ہے‘ کہ صدر پوتن اس میں ملوث تھے۔

روس نے کئی بار ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بن روڈز کا کہنا تھا کہ ’روس میں حکومت کے انداز اور اس پر پوتن کے کنٹرول کے بارے میں ہم جو کچھ بھی جانتے ہیں اس سے یہی لگتا ہے، اور جب آپ اس طرح کے اہم سائبر حملے کی بات کر رہے ہیں تو اس میں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہوتے ہیں۔‘

’اور آخر میں روسی حکومت کے اقدامات کے لیے صدر پوتن ہی ذمہ دار ہیں۔‘

جمعرات کو روسی صدر کے دفتر سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی گئی تھی۔

امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے مطابق امریکہ کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر پوتن نے ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کی کہ روس کی جانب سے ہیک کی گئی خفیہ معلومات کو کس طرح افشا کیا جائے۔

ادھر صدر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوو نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ این بی سی کا دعویٰ مزاخہ خیز ہے۔

ادھر امریکہ میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روسی مداخلت کے الزامات کو رد کیا ہے۔

انھوں نے اس حوالے سے ایک سی آئی اے کی رپورٹ کو بھی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی بارے میں