یہودی آبادکاری کے حامی اسرائیل میں امریکی سفیر مقرر

ڈیوڈ فرائڈمین تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ فرائڈمین کو اسرائیل میں نیا امریکی سفیر نامزد کیا ہے۔

ستاون سالہ قانون دان امریکہ کے اسرائیل فلسطین تنازعے کے تصفیے کے لیے دو ریاستی حل کے سخت ناقد ہیں۔

وہ مقبوضہ غرب اردن میں یہودی آبادیوں کے تعمیر کے حامی ہیں جسے اوباما انتظامیہ مسئلے کے پرامن حل میں ایک رکاوٹ سمجھتی ہے۔

ایک لبرل یہودی گروپ نے ان کی نامزدگی کی مخالفت کی ہے جبکہ قدامت پسند یہودی اس پر خوش ہیں۔

مسٹر فرائڈمین نے کہا ہے کہ وہ 'اسرائیل کے دائمی دارالحکومت یروشلم میں امریکی سفارت خانے میں' کام کرنے کے بارے میں پرجوش ہیں۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جس پر فلسطینی غصے کا اظہار کریں گے۔

اقوامِ متحدہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا اور امریکی سفارت خانہ کئی دہائیوں سے تل ابیب میں کام کر رہا ہے۔

مسٹر ٹرمپ نے صدارتی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیں گے۔ یہ ان کئی علامتی اقدامات میں سے ایک ہے جس کا انھوں نے اسرائیل سے وعدہ کر رکھا ہے۔

یروشلم کا مستقبل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان متنازع ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ پورے شہر کو اپنا انفرادی دارالحکومت سمجھتا ہے۔ دوسرے طرف فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ ہو۔

آبادی کاری کے حامی

مسٹر فرائڈمین انتخابی مہم کے دوران امریکی-اسرائیلی امور پر مسٹر ٹرمپ کے مشیر رہے ہیں۔

وہ غربِ اردن میں یہودی بستیوں کے حامی ہیں۔ تقریباً پانچ لاکھ ستر ہزار اسرائیلی 1967 کے بعد قائم ہونے والی 130 بستیوں میں رہائش پذیر ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں جبکہ اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتنیاہو نے، جن کے ڈیموکریٹ صدر اوباما کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں، مسٹر ٹرمپ کے انتخاب کا خیرمقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں