ترکی دھماکہ: بس میں سوار 13 سپاہی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’بدقسمتی سے سنیچر کو ہونے والے بم دھماکے اور گذشتہ ہفتے استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں مماثلت پائی جاتی ہے‘

ترکی کے شہر قیصری میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں بس میں سوار 13 سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 48 افراد زخمی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر ایک کار بم دھماکے کے ذریعے بس کو نشانہ بنایا گیا۔

سنیچر کو ہونے والے اس بم دھماکے کے حوالے سے ترک فوج کا کہنا ہے کہ بس میں موجود سپاہیوں کو مقامی مارکیٹ میں جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں شہری میں شامل ہیں۔

٭ کیا ترکی کے تاریک دن لوٹ آئے؟

دھماکے کے بعد موصول ہونے والی تصاویر میں بس کو تباہ شدہ حالت دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی میں ہونے والے بم دھماکے میں 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کرد جنگوؤں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ترکی کے نائب وزیراعظم ویسی کناک نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے سنیچر کو ہونے والے بم دھماکے اور گذشتہ ہفتے استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میڈیا کو عارضی طور پر اس خبر کی کوریج سے روک دیا گیا ہے

تاہم ترک حکام کی جانب سے عارضی طور میڈیا کو اس واقعے کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیراعظم نے میڈیا پر مور دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی حبر کو نشر کرنے سے اجتناب کرے جس سے عوام میں خوف یا انتشار پیدا ہو جو کہ دہشت گرد تنظیموں کا مقصد ہے۔

اسی بارے میں