پوتن کو صدارتی انتخاب سے قبل تنبیہ کی تھی: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدارتی انتخاب سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن کو تنبیہ کی تھی وہ امریکہ کے انتخابی مراحل میں مداخلت نہ کریں۔

صدر اوباما نے یہ بیان سال کی آخری نیوز کانفرنس کے دوران دیا۔

ہیکنگ سے روسی صدر کتنے واقف ہیں اس بارے صدر اوباما نے کہا کہ 'ولادی میر پوتن کی مداخلت کے بغیر روس میں زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔'

٭ صدارتی انتخاب میں مداخلت پر روس کے خلاف کارروائی کریں گے: اوباما

٭ شکست کا ذمہ دار روس ہے: ہلیری کلنٹن

٭ روس میں ٹرمپ کی کامیابی پر جشن کیوں؟

صدر اوباما نے کہا کہ انھوں نے رواں سال ستمبر میں ایک کانفرنس کے دوران مسٹر پوتن کو کہا تھا کہ ایسا کرنے کے سنجیدہ نتائج سامنے آئیں گے۔

تقریباً ایک ماہ کے بعد امریکہ نے روس پر امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اثرانداز ہونے کا الزام عائد کیا۔

صدر اوباما نے وعدہ کیا کہ وہ انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی سمیت ناکامی سے متعلق ہلیری کلنٹن کی مہم کے چیئرمین کی ای میل پر 'متناسب' جواب دیں گے۔

اوباما نے تجویز دی کہ امریکہ کو اس معاملے پر اپنی سائبر صلاحیتوں کو دکھانا چاہیے اور 'جو وہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ہم اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی کر سکتے ہیں۔'

صدر اوباما نے اپنے پیش رُو ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض رپبلکن امریکی انتخاب میں روس کی مداخلت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔

اوباما نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ روس کے سائبر حملے کی مکمل تحقیقات کروائیں۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی خفیے ایجنسیوں کا یہ الزام کہ اُن کی کامیابی میں روسی ہیکرز کی معاونت شامل ہیں، مضحکہ خیز اور سیاسی نوعیت کا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ 'کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر انتخاب کے نتائج اس کے مخالف ہوں اور ہم روس اور سی آئی اے کا کارڈ کھیلنے کو کوشش کریں تو یہ سازشی نظریہ کہلاتا ہے۔'

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ڈائریکٹر جان بینن نے اپنے ملازمین سے خطاب میں کہا تھا کہ ایف بی آئے اور سی آئی اے اس نتیجے پر متفق ہیں کہ روس کا ہدف ٹرمپ کو جتوانا تھا۔

کریملن نے امریکہ کی ای میلز ہیک کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'غیر مہذب' قرار دیا۔

صدر پوتن کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ اس بارے میں کوئی ثبوت دے نہیں تو خاموش رہے۔

اسی بارے میں