حلب سے انخلا: مبصرین بھجوانے پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ متوقع

حلب تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فرانس نے حلب میں عام شہریوں کے بحفاظت انخلا کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی کونسل میں قرارداد پیش کی ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام کے جنگ زدہ شہر حلب کے لیے اپنے مصبرین روانہ کرے یا نہ کرے، اس معاملے پر رائے شماری اتوار کو متوقع ہے۔

٭ روس حلب کے لیے محفوظ راستے دینے کو تیار

فرانس نے یہ تجویز دی ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے شہر سے انخلا کے مرحلے کی نگرانی کی جانی چاہیے۔

اس تجویز کے متعلق یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شام کے دوست ملک روس کی جانب سے اس کی مخالفت ہوگی اور روس سکیورٹی کونسل کا ایسا اہم رکن ہے جس کے پاس ویٹو کا اختیار ہے۔

ماسکو سنہ 2011 میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک شام کے متعلق چھ قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔

فرانس نے جمعے کی شام ایک مسودہ جاری کیا تھا جس میں یہ کہا گيا ہے کہ کونسل حلب میں ابتر ہوتے ہوئے انسانی حالات کے متعلق تشویش رکھتا ہے جہاں دسیوں ہزار افراد خطرے میں ہیں۔

ٹھنڈ میں کپکپاتے اور بھوکے شہری باغیوں کے قبضے والے مشرقی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ حفاظت کے ساتھ وہاں سے نکالے جانے کے منتظر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب پر حکومت نواز فوجیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران کامیاب پیش قدمی کی ہے

حالیہ ہفتوں کے دوران محصور شہر میں حکومتی افواج نے تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی ہے اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

سنیچر کو مختلف سرکاری اور باغیوں کے ذرائع سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ ان کے درمیان انخلا کا نیا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت باغیوں کے زیرِ اثر اور حکومت کے کنٹرول میں دو دو قصبوں سے لوگوں کو نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔

گذشتہ چند روز میں حلب سے تقریباً 6000 افراد نکل چکے ہیں تاہم جمعے کے روز شہریوں کے انخلا کے دوران فائرنگ کے سبب انخلا روک دیا گیا تھا۔

سنیچر کے روز متعدد حکومتی اور باغی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انخلا کا نیا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے مندرجہ ذیل نکات ہیں:

  • مشرقی حلب سے باغیوں اور عام شہریوں کے انخلا کو دوبارہ شروع کرنا۔
  • ادلیب صوبے میں باغیوں کے محاصرے میں شیعہ اکثریتی قصبوں فوح اور کفرایہ سے انسانی ہمدردی کی بنیادیوں پر لوگوں کو نکلنے دینا
  • لبنانی سرحد کے قریب حکومتی محاصرہ میں دو قصبوں مدایہ اور زبدانی سے زخمیوں کے انخلا کی اجازت دینا
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک تقریبا چھ ہزار افراد کو نکالا گيا ہے

استنبول میں موجود ہمارے نامہ نگار کوئنٹن سمرویلے کا کہنا ہے کہ حلب میں انخلا اسی وقت شروع ہو سکے گا حکومت نواز قبضے آلاف اور کیفرایہ سے شیعوں کو باہر نکلنے دیا جائے گا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس توقع میں 50 بسیں ان قصبوں کے لیے روانہ کی گئی ہیں جبکہ مزید گاریاں حلب کی راموسہ کراسنگ پر یکجا ہیں۔

اقوام متحدہ کے ڈرافٹ قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ شام میں انسانی بنیادوں پر موجود اپنے کارکنوں کو وہاں پھر سے تعینات کرے تاکہ مناسب اور غیرجانبدارنہ طور پر حلب میں محصور شہریوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے مرحلے کی نگرانی کرے۔

اس کے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ پانچ دنوں میں بتائيں گے کہ آیا شام کی حکومت نے آبزرورز کو وہاں جانے کی اجازت دی ہے یا نہیں۔

قرارداد میں تمام ڈاکٹروں، ہسپتالوں اور ایمبولینسز کی حفاظت کی بھی بات کہی گئي ہے کیونکہ حلب سے موصول ہونے والی اطلاعات میں یہ بتایا گیا تھا کہ شامی افواج نے حلب کی تمام طبی سہولیات پر بمباری کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں