یمن خودکش حملے میں کم ازکم 48 سپاہی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکہ اس وقت ہوا جب سپاہی تنخواہیں لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے

یمن کے ساحلی شہر عدن میں ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 48 سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک فوجی اڈے پر حملہ اس وقت ہوا جب سپاہی تنخواہیں لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ الثوبان نامی فوجی اڈے پر خودکش بمبار سپاہیوں کے ہجوم میں موجود تھا۔

خیال رہے کہ اسی طرح کا ایک حملہ رواں ہفتے کے آغاز میں بھی ہوا تھا جس کے نتیجے میں 48 سپاہی ہلاک ہو گئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی تاہم اس شہر میں اس سے قبل ہونے والے حملوں کی ذمہ داری جہادی گروہ قبول کرتے رہے ہیں۔

اگست میں ایک خود کش حملے میں دولتِ اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم نے فوج کے بھرتی سینٹر کو نشانہ بنایا تھا جس میں کم ازکم 70 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یاد رہے کہ عدن کے مختلف حصوں پر بین الاقوامی حمایت یافتہ گروہوں کا کنٹرول ہے جو شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ باغیوں نے سنہ 2014 میں صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس صورتحال کا فائدہ دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ نے اٹھایا تھا۔

اب تک یمن میں 7000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔

سعودی عرب کی سربراہی میں لڑنے والے اتحاد کو امریکہ اور برطانیہ کی مدد حاصل ہے جو یمن میں بڑے پیمانے پر بمباری کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا الزام ہے کہ سعودی اتحاد شہری آبادیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یمن کے 30 لاکھ افراد اپنا گھر ار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ وہاں کی 66 فیصد آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں