عراقی حکومت کی حمایت یافتہ ملیشیا نے زیر حراست قیدیوں کو قتل کیا: ہیومن رائٹس واچ

عراق، افواج تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption شیعہ اکثریتی ملیشیاؤں پر مشتمل ان فورسز پر دولتِ اسلامیہ اور سنی گروہوں کے خلاف زیادتی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت کی حمایت یافتہ ملیشیا نے مبینہ طور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وابستہ زیر حراست جنگجوؤں کو قتل کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ملیشا نے موصل پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے کیے گئے ایک آپریشن کے دوران دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا۔

٭ موصل کی جنگ، داعش کی دفاعی پوزیشنیں

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق نومبر میں سنی قبائل کے جنگجوؤں کے پر مشتمل گروہ حشد الجبور نے زیر حراست چار افراد کو قتل کیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ ان افراد کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے عراقی سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں قتل کیا گیا۔

یاد رہے کہ یہ ملیشیا بھی عراق کی مختلف ملیشیاؤں پر مشتمل متحرک فورسز کا حصہ ہیں جنھیں عراقی افواج کی حمایت حاصل ہے۔ عام طور پر شیعہ اکثریتی ملیشیاؤں پر مشتمل ان فورسز پر دولتِ اسلامیہ اور سنی اتنہا پسند گروہوں کے خلاف زیادتی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

عراقی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کو اس واقعے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں لیکن حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے مشتبہ افراد کےخلاف کارروائی کرنے اور انھیں حراست میں لینے کے لیے پرعزم ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ 'بعض علاقوں میں متحرک افواج میں شامل مقامی افراد کے جانب سے بدلہ لینے کے واقعات ہو سکتے ہیں کیونکہ داعش نے حکومتی افواج کی کارروائی سے قبل ان لوگوں کے خاندانوں کے افراد کو قتل کیا ہے لیکن عراقی حکومت ایسی کارروائیوں کو مسترد کرتی ہے اور تحقیقات کے بعد واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔'

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطیٰ کے ڈائریکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ عراق حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ حکومتی حمایت یافتہ ملیشیا کو زیر حراست افراد کو قتل کرنے یا اُن سے زیادتی کرنے کی اجازت نہ ہو۔'

دوسری جانب عراق کے سرکاری ٹی وی نشر ہونے بیان میں وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا انھیں متحرک فورسز کے حوالے سے تاحال کوئی 'شکایت' موصول نہیں ہوئی ہے اور موصل کا آپریشن 'صاف ستھرا' تھا اور 'بہتر رفتار' سے آگے بڑھ رہا ہے۔

یاد رہے کہ موصل میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن اکتوبر میں شروع ہوا تھا اور اس آپریشن میں ہزاروں کی تعداد میں عراقی افواج میں شامل سپاہیوں، پولیس، کرد جنگجو، شیعہ ملیشیا اور سنی قبائل نے حصہ لیا۔

عراقی حکومت کی حمایت یافتہ ان ملیشیاؤں پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں کئی بار قتل، اغوا اور املاک کو نقصان پہنچانے سمیت زیادتیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں