مشرقی حلب سے شہریوں کا انخلا دوبارہ شروع ہو گیا

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب میں حکومت مخالف باغیوں نے شہریوں کے انخلا کے لیے جانے والی کئی بسوں کو نذر آتش کر دیا تھا جس کے بعد انخلا کا عمل رک گیا تھا

اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب سے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے بسوں اور ایمبولینسز کے ذریعے شہریوں کا انخلا دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق شہریوں کو لے کر بسوں اور ایمبولینسز نے مشرقی حلب سے باہر نکلنا شروع کر دیا ہے۔

حلب: باغیوں نے انخلا کے لیے جانے والی بسوں کو نذرآتش کردیا

حلب سے انخلا: مبصرین بھجوانے پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ متوقع

اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو ای میل پیغام میں بتایا 'مشرقی حلب سے پہلا قافلہ مقامی وقت کے مطابق 23:00 بجے روانہ ہوا۔'

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مشرقی حلب میں موجود ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ احمد ال دبیس کے حوالے سے بتایا کہ پانچ بسیں شہریوں کو لے کر باغیوں کے علاقے خان الا اصل پہنچی ہیں جس کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ حلب اور ادلب میں حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب سفر کریں گی۔

اطلاعات کے مطابق کم سے کم 350 افراد پر مشمل قافلوں نے باغیوں کے محصور علاقے کو چھوڑ دیا ہے اور وہ مغرب کی جانب حکومتی علاقے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اس سے پہلے حلب میں حکومت مخالف باغیوں نے شہریوں کے انخلا کے لیے جانے والی کئی بسوں کو نذر آتش کر دیا تھا جس کے بعد انخلا کا عمل رک گیا تھا۔

مشرقی حلب میں ہزاروں شہری انتہائی نامناسب حالات میں وہاں سے نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

مشرقی حلب سے انخلا کا ابتدائی معاہدہ جمعے کو ختم کر دیا گیا تھا جس کے باعث مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہری بے خوراک اور رہائشی سہولیات کے پھنس کر رہ گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حلب میں شہریوں کے انخلا کی نگرانی کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل شام کے اتحادی روس نے مشرقی حلب پر ایک فرانسیسی مسودہ تیار کرنے کی منصوبہ بندی کو مسترد کر دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر سمانتھا پاور کا کہنا ہے 'ہمیں (پیر) کو اس مسودے کے لیے متفتہ طور پر ووٹ دینے کی توقع ہے۔'

حلب سے انخلا کے ابتدائی معاہدے کو جمعے کو ختم کر دیا گیا تھا جس کے باعث مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہریوں کی خوراک یا پناہ گاہ تک رسائی ختم ہو گئی تھی اور وہ وہاں پھنس کر رہ گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں