آخر جرمنی میں ہو کیا رہا ہے؟

جرمنی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جولائی میں جرمنی میں ہونے والے حملوں میں دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے

رواں سال گرمیوں میں جرمنی کے مختلف شہروں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد ملک میں مزید حملوں کا خدشہ تھا۔

پیر کو یہ خدشہ اس وقت حقیقت میں بدل گیا جب برلن میں کرسمس کے سلسلے میں قائم ایک مارکیٹ پر ایک شخص نے ٹرک چڑھا دیا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے۔

جولائی میں ایک ہفتے کے دوران جرمنی کے دو مختلف شہروں میں چاقو، بندوق، کلہاڑی، خنجر اور بم حملے میں دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

حملوں کے بعد حکام کا موقف تھا ان حملوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے تاہم ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا تھا۔

رواں برس ہونے والے حملے

19 دسمبر کو ایک شخص برلن کے وسط میں قائم ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک چڑھا دیا۔ حملے کے بعد ڈرائیور فرار ہوگیا تاہم اسے جائے قوعہ سے کچھ دور گرفتار کر لیا گیا۔

18 جولائی کو ایک افغان پناہ گزین نے ویزر برگ میں ٹرین پر سوار افراد پر چاقو اور کلہاڑی سے حملہ کرکے پانچ افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور کو پولیس نے موقعے پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

22 جولائی کو ایرانی نژاد ایک جرمن نوجوان نے میونخ میں فائرنگ کر کے پانچ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔

24 جولائی کو ایک اکیس سالہ شامی پناہ گزین نے خنجر کے وار کرکے ایک خاتون کو ہلاک اور پاچ افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور کو بعد میں پولیس گرفتار کر لیا۔

اسی روز ایک 27 سالہ شامی پناہ گزین جس کی پناہ کی درخواست نامنظور ہوگئی تھی نے انبیش میں ایک ریسٹورنٹ کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ اس برس جولائی میں فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے ایک دہشت گردی کے واقعے میں ایک شخص نے لوگوں پر ٹرک چڑھا کر 80 افراد کو ہلاک کردیا تھا اور فرانس میں ہونے والے ایک اور واقعے میں دو افراد نارمنڈی میں ایک چرچ پر حملہ کیا تھا۔

کیا یہ سب دہشت گرد حملے تھے؟

جرمن پولیس کے مطابق وہ برلن میں ہونے والے اس تازہ حملے کی تحقیقات ایک دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کر رہے ہیں۔

ویزربرگ میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ ن قبول کی تھی۔ جبکہ انبیش میں حملہ کرنے والے شخص کے فون سے ملنے والے ایک ویڈیو میں انھیں دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تاہم میونخ کے واقعے کے بارے میں پولیس کا موقف ہے کہ حملہ آور کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔

21 سالہ شامی پناہ گزین نے جس خاتون کو ہلاک کیا تھا اس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے اور یہ واقع ان کی ذاتی رنجش کا نتیجہ لگتا ہے۔

تازہ حملے کے حوالے سے ابھی واضح نہیں ہے کہ اس کا تعلق دوسرے دہشت گردی کے واقعات جوڑا جاسکتا ہے یا نہیں۔

حملہ آوروں کی دماغی حالت

میونخ اور انبیش کے حملہ آور اور ریسٹورنٹ کے باہر خود کو اڑانے والا شخص ماضی قریب میں خراب ذہنی صحت کا شکار رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کا علاج بھی ہوتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تازہ حملے کے حوالے سے ابھی واضح نہیں ہے کہ اس کا تعلق دوسرے دہشت گردی کے واقعات سے جوڑا جاسکتا ہے یا نہیں

کیا جرمنی میں مزید حملے ہوسکتے ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ سے واپس آنے والے جہادیوں نے تحقیق کاروں کو بتایا ہے کہ دولتِ اسلامیہ جرمنی اور برطانیہ کے شہریوں کو بھرتی کرنے میں کافی دلچسپی رکھتی ہے تاکہ ان ممالک میں حملے کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔

برلن حملے سے قبل عراقی نژاد ایک 12 سالہ جرمن لڑکے نے نومبر میں ایک کرسمس مارکیٹ کو بم سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

اس لڑکے کو دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور جرمن میڈیا نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس لڑکے کو دولتِ اسلامیہ نے شدت پسندی کی جانب مائل کیا ہے۔

کیا جرمن حکام تیار تھے؟

برلن حملے کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پہلے سے ہی اقدمات کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس میں ہونے والے حملوں کے بعد تفتیش کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ملک کی مختلف سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں کے مابین معلومات کے تبادلے کے فقدان کے باعث حملے روکنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

اس طرح کے واقعات کے بارے میں تحقیق کرنے والے یورپی تھنک ٹینک رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ رافیلو پینٹوکی کا کہنا ہے کہ جرمنی میں مختلف علاقوں میں متعدد سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔

ان کے بقول اگر ان کے مابین معلومات کا مناسب تبادلہ نہ ہو تو خدشہ ہے کہ حملوں کی پشگی اطلاعات نظر انداز ہوسکتی ہیں۔

جرمنی کی حکومت ملک کی مرکزی انٹیلیجنس سروس کی معلومات اکھٹی کرنے کی صلاحیت کی بڑھانی کی کوشش کر رہی ہے تاہم اس سلسلے میں پیش کیا گیا مجـوزہ قانون ابھی پاس نہیں ہوا ہے۔