برلن: ’سرخ شراب بھی ہوسکتی تھی، خون بھی‘

برلن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’لوگ مشروبات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کرسمس کی موسیقی اور کرسمس کی روشنیاں تھیں۔ میلے کا سماں تھا اور پھر آپ کے سامنے یہ ہولناکی رونما ہوگئی۔‘

برطانوی سیاح ایما رشٹن نے جائے وقوعہ کا منظر کچھ یوں بیان کیا جہاں کرسمس کی خریداری کے لیے لگی ایک مارکیٹ میں ٹرک کے ٹکرانے سے 12 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے۔

برطانیہ کے علاقے ورکشائر سے تعلق رکھنے والی ایما رشٹن پہلی بار برلن آئی ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انتہائی، انتہائی خوش قسمت‘ ہیں کہ وہ اس واقعے میں بچ گئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم انتظار کر رہے تھے، روشنیوں کو دیکھ رہے تھے اور اپنے ہوٹل میں جانے کے منتظر تھے جب ہم ایک نے بلند آواز سنی۔‘

’ہم مڑے اور دیکھا کہ ایک ٹرک نے لائیٹیں توڑ دی ہیں اور ہمارے سامنے بنے ہوئے ہٹس۔۔۔ مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں

’جہاں سے میں نے شراب منگوائی تھی وہ ہٹ مکمل طور پر زمین بوس ہوچکا تھا۔

’وہ ہمارے سے آٹھ، دس فٹ کے فاصلے پر تھا اور دو منٹ پہلے اگر وہ سے ہٹے نہ ہوتے تو ہم اس کے راستے میں ہوتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا جسم کانپ رہا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں سب سے پہلے خیال آیا کہ وہ اپنی والدہ کو کال کر کے اپنی خیریت کے بارے میں بتائیں۔

’یہ پیر کی شام تھی۔ وہاں بہت سارے سیاح تھے، لوگ کام کے بعد جارہے تھے۔ کافی رش تھا۔ بہت سارت لوگ شام کو لطف اندوز ہو رہے تھے۔‘

انھوں نے بیان کیا کہ ٹرک سیدھا چوراہے کے درمیان میں گیا اور اسے آہستہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔'

ایما رشٹن ایک صحافی ہیں اور ان کا کہنا تھا: ’میں نیس میں ہونے والے حملے کے وقت نیوز روم میں صبح کے کام کر رہی تھی اور اس نے اسی کی یاد تازہ کر دی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ میں خود کو اس صورتحال میں پاؤں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters, AP
Image caption مائیک فوکس کہتے ہیں انھوں نے دو لوگوں سے بات کی جن کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور وہ زمین پر لیٹے ہوئے تھے

'تین میٹر کی دوری پر'

مارکیٹ میں موجود ایک اور برطانوی سیاح مائیک فاکس نے بتایا کہ انھوں نے کس طرح پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جیسے ہم وہاں سے روانہ ہونے والے تھے ایک ٹرک میرے اور میری گرل فرینڈ کے قریب سے گزرا۔ میرے خیال سے وہ میرے سے تین میٹر اور میرے گرل فرینڈ سے پانچ میٹر کے فاصلے پر تھا۔‘

مائیک فوکس کہتے ہیں انھوں نے دو لوگوں سے بات کی جن کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور وہ زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں نے ایک لڑکے کے گھسٹتے ہوئے دیکھا جس کا منہ خود آلود تھا۔ میں نے کئی لوگوں کو اٹھانے میں مدد کہ تاکہ وہ ملبے تلے دبے دو لوگوں کو باہر نکال سکیں۔‘

’سرخ شراب بھی ہوسکتی تھی، خون بھی‘

ایک اخبار کے مدیر جان ہولیٹزر کا کہنا تھا کہ ان کے آبائی شہر میں ان ’ہولناک مناظر‘ نے نیس میں ہونے والے حملے کی یاد دلائی، جس میں 86 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے اس واقعے کے بعد فیس بک پر لائیو ویڈیو شیئر کی۔

وہ کہتے ہیں: ’میں نے شور اور چیخیں سنیں۔‘

جان ہولٹزر اخبار برلنر مورگن پوسٹ کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ مارکیٹ کے ہونے والی تباہی کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تباہ شدہ سٹالز، ٹوٹے شیشے، کراکری اور مادے ’جو خون بھی ہوسکتا ہے، سرخ شراب بھی، وہ نہیں جانتے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میں نے لوگوں کو زمین پر لیٹے دیکھا اور کچھ لوگ ٹرک کے نیچے بھی تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

واقعی ایک دہشت گرد حملہ تھا

برلن کے رہائشی ابراہم کولک کے خیال میں یہ ایک سوچا سمجھا حملہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ رات کے کھانے کے لیے وہاں گئے تھے جب انھوں نے کرسمس مارکیٹ میں ایک سٹال گرنے کی آواز سنی۔

’میں دیکھا کہ ٹرک پوری تیز رفتاری کے ساتھ جارہا تھا۔ میرے خیال میں یہ واقعی ایک حملہ تھا۔ ‘

’روکنے کی کوشش نہیں کی‘

برطانوی سیاح رہیس میرڈتھ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مارکیٹ میں تھے جب ٹرک نے میزوں اور لڑکے کے سٹینڈز کو کچل دیا۔

’ہم نے کھانا خریدا اور اگر ہم اس راستے پر چل پڑتے جہاں سے ٹرک آرہا تھا تو ہم اس وقت یہ گفتگو نہ کر پاتے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے خود مقامی لوگوں کے گروہ کے ساتھ لوگوں پر گرے ہوئے سٹالز کو ہٹایا جو مر چکے تھے۔ ناقابل یقین مناظر تھے میں انھیں بیان نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میری گرل فرینڈ ان لوگوں کی دیکھ بھال کی جنھیں سر پر بہت زیادہ چوٹیں آئی تھیں۔

’واضح طور پر (ٹرک کو) روکنے آہستہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔۔۔ میں نے سٹالز کو ملیا میٹ ہوتے دیکھا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں