کیا کرسمس بازاروں کی حفاظت ممکن ہے؟

برلن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برلن کی کرسمس مارکیٹ میں ہونے والے حملے پر یا جس انداز میں یہ حملہ کیا گیا اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حملے کا طریقہ کار اور ہدف قابل پیش گوئی تھا تب بھی اس کے خلاف دفاع کے لیے سکیورٹی چیلنجز حقیقی ہیں۔

سنہ 200 میں سٹراسبرگ شہر میں القاعدہ نے بم دھماکے کا منصوبہ بنایا تھا جس کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔

یہ بازار جو یورپ کے بہت سارے حصوں میں پرانی روایت کا حصہ ہیں اور یہاں چھٹیوں میں مقامی افراد اور سیاح بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں اور جہادیوں کی جانب سے ان کو نشانہ بنانے کے علامتی اور جذباتی اثرات ہوتے ہیں۔

چند ہفتے قبل مبینہ طور پر شدت پسندی کی جانب مائل ایک 12 سالہ لڑکے کو جرمنی میں اپنے گھر تیارہ کردہ دیسی ساخت کے بم سے شہر کی مارکیٹ میں دھماکے کرنے کے منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ بم پھٹ نہیں سکا تھا۔

اور حملے کا یہ طریقہ کار بھی نیا نہیں ہے۔

گاڑیاں بطور ہتھیار

دو سال قبل فرانس کے نینت شہر میں ایک ڈرائیور نے کرسمس بازار میں خریداری کرنے والے پر گاڑی چڑھا دی تھی جس سے دس افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سے ایک کی بعد میں موت واقع ہوگئی تھی۔

شدت پسند تنظیموں دولت اسلامیہ اور القاعدہ دونوں کی جانب سے گاڑیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور جولائی میں نیس شہر میں ہونے والا حملہ اس قسم کے حملوں سے ہونے والے نقصان کی وضاحت کرتا ہے جس میں 86 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے میں ڈرائیور شاید دولت اسلامیہ سے متاثر تھا لیکن اس کا تنظیم کے ساتھ براہ راست رابطہ بظاہر انتہائی محدود تھا۔ ہر گاڑی کی جانچ پڑتال کرنا اس کا حل نہیں خاص طور پر برلن کے واقعے میں جس میں گاڑیوں کو حملے سے چند گھنٹے قبل ہائی جیک کیا گیا تھا۔

اس قسم کی حملوں سے بچاؤ خاصا پیچیدہ کام ہے۔

ایک دہائی قبل القاعدہ سے منسلک افراد نے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے ہوئے مزید پیچیدہ حملے کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

اس کے لیے عموماً بین الاقوامی سفر، تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ روابط اور منصوبہ بندی کے لیے وقت درکار ہوتا تھا۔

اس کی وجہ سے انٹیلی جنس کے اداروں کو واسطہ با بلاواسطہ ان حملوں کو منصوبہ بندی کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہجوم کو تن تنہا حملہ آوروں سے بچانا

دولت اسلامیہ سے متاثر ہونے والا کوئی فرد جو اس تنظیم کے رابطے میں نہ ہو اور اپنے طور پر یا کسی چھوٹے سیل کا حصہ ہو، تو اس کی نشاندہی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ کوئی ٹرک ہائی جیک کرنے کے بعد اس کو تلاش کرنے کے مواقع مزید معدوم ہوسکتے ہیں۔

اس صورت میں صرف یہی امید کی جاسکتی ہے کہ جگہوں کو ممکنہ حملے کی صورت میں کم سے کم نقصان پہنچے۔

تاریخی اعتبار سے زیادہ توجہ کار بم دھماکوں کے خلاف اقدامات میں رہی جس میں گاڑیوں کو چرا کر دھماکوں میں استعمال ہونے سے روکنا شامل ہے۔ اس قسم کے واقعات پہلی بار ممبئی اور حال ہی میں پیرس میں دیکھے گئے ہیں۔

کار بم دھماکوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی باڑوں اور دیگر اقدامات کے لیے سرمایہ کاری کی گئی اور بعض اوقات مقامی فن تعمیر بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک گاڑی کے لیے تیزرفتاری سے ٹکرانا مشکل ہوجاتا ہے۔

عوامی تقریبات میں نگرانی اور منتظمین کی پولیس کے ساتھ تیاری پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔

تاہم بازاروں کو محفوظ بنانا اب بھی مشکل ہے کیونکہ یہ عام طور پر کھلی جگہوں اور گلیوں میں ہوتے ہیں اور تعمیری اعتبار سے عارضی بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں مستقل اوربھاری سکیورٹی تعینات نہیں ہوتی تاہم بیریئر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'اضافی بیریئرز حل نہیں'

برطانیہ میں پولیس نے بازاروں میں حفاطتی اقدامات کا پلان مرتب کیا ہے تاہم انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ حفاظتی اقدامات پر مکمل طور پر انحصار کرنا ناکافی ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس میں سنہ 2011 سے سنہ 2016 کے اوائل تک انسداد دہشت گردی کے سربراہ کے طور پر تعینات رہنے والے رچرڈ والٹن نے بی بی سی کو بتایا: 'سڑکوں پر مزید بیریئرز اور اہلکاروں کی تعیناتی خطرے سے نبردآزما ہونے کا جواب بالکل نہیں ہے۔'

'آپ کو انٹیلی جنس کی قابلیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی کہ آپ آگے بڑھیں اور خاص طور پر مسلمان برادری کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ سامنے آئیں اور ایجنسیوں پر بھروسہ رکھیں اور کسی بھی قسم کے خدشات سے آگاہ کریں۔'

اس حوالے سے کئی سوالات ہیں کہ کیا برلن میں اس خطرے سے بچاؤ کے کافی اقدامات کیے گئے تھے۔

نومبر کے اواخر میں امریکہ کے محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ 'چھٹیوں کے دنوں، تقریبات اور کھلی مارکیٹوں کے بارے میں خبردار رہیں۔'

کچھ مارکیٹوں میں اضافی سکیورٹی کے اقدامات کیے بھی گئے ہیں جیسا کہ سٹراسبورگ کے ایک مشہور بازار میں لوگوں پر نظر رکھنا اور گاڑیوں کا داخلہ محدود کیا گیا ہے۔

لیکن ایک خطرہ موجود ہے کہ تمام بازار ایک ہی معیار کی محفوظ نہیں ہے اور حملہ آور کسی آسان ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایک جرمنی اہلکار کا کہنا تھا کہ 'کرسمس بازاروں کو قلعوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

'ہمارے ہاں لامحدود تعداد میں آسان اہداف موجود ہیں۔ ٹرک پر حملہ کرنے اور لوگوں کو ہلاک کرنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں