کیا ٹرک حملے روکے جاسکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption عوامی مقامات پر ٹرک حملوں کو روکنے کے موثر طریقے موجود ہیں

کیا برلن اور نیس میں جس طرح کے ٹرک حملے ہوئے ہیں انھیں روکنا ممکن ہے؟

اگر ہم ایک آزاد معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں تو ایک بات تسلیم کرنا ہوگی کے تمام ممکنہ حملوں کو سکیورٹی کے ذریعے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

لیکن عوامی مقامات پر ٹرک حملوں کو روکنے کے موثر طریقے موجود ہیں۔

میں ان چند صحافیوں میں شامل ہوں جنہوں نے ایسے حملوں کو روکنے کے ایک انتہائی موثر طریقے کا تجربہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل وہ ممالک ہیں جنھوں نے عوامی مقامات کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان اقدامات میں بڑے بڑے بیریئر سے لے کر بمشکل نظر آنے والی ایسی تبدیلیاں ہیں جن سے سٹرکوں پر گاڑیوں کی رفتار اور سمت کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

اگر لندن اور نیویارک کو دیکھا جائے تو وہاں سڑکوں پر رکاوٹیں کے ذریعے موثر سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ اور نیویارک سٹاک ایکسچینج کے باہر کسی بھی ممکنہ حملہ آور گاڑی کو روکنے کے لیے لگی رکاوٹیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شہروں میں گاڑیوں کو روکنے کی صلاحیت رکھنے والی رکاوٹیں لگا کر شہروں کو کافی حد تک برلن جیسے حملوں سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption وائٹ ہال کے باہر سڑک

لیکن یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسا کرنے سے ہمارے شہر قلعے بن جائیں گے؟

ایسا ضروری نہیں ہے، اگر ہم لندن ہی کی مثال لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ پارلیمنٹ کے قریب ہی واقع وزارتوں کے دفاتر جنھیں وائٹ ہال کہا جاتا ہے کے باہر آپ کو بڑی بڑی رکاوٹیں نظر نہیں آئیں گی بلکہ عمارت کے باہر ایسی باڑ تعمیر کی گئی ہے جو موثر رکاوٹ ہے لیکن اسے دیکھ کر ایسا احساس نہیں ہوتا کہ یہ ایک رکاوٹ ہے۔

دنیا بھر میں حکومتیں اہم عمارت کی سکیورٹی کو تو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہی ہیں۔ لیکن اگر حملہ آور برلن اور نیس کی طرح عام لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں تو اسے کیسے روکا جائے؟

برطانیہ میں حکومت نے اس سلسلے میں پولیس افسران، انجینیئرز اور دیگر مایرین پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ہوئی ہے۔

یہ ٹیم محتلف عوامی مقامات کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کو گاڑی کے ذریعے ممکنہ حملے کو روکنے تجاویز دیتی ہے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ہر عوامی مقام پر بڑی بڑی رکاوٹیں نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ ان سے علاقے کی خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption آرسنل سٹیڈیم کے باہر کنکریٹ سے آرسنل لکھا گیا ہے

لیکن ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں ایسی رکاوٹیں لگانے کی مثالیں موجود ہیں جن کو دیکھ کر یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ رکاوٹیں ہیں۔

اگر ہم آرسنل فٹبال سٹیڈیم کو دیکھیں تو اس کے باہر کنریٹ کے بڑی بڑے حروف سے آرسنل لکھا گیا ہے۔

اگر یہاں برلن کی طرز کا حملہ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ٹرک ان حروف سے ٹکرا کر تقریباً تباہ ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ ٹریفک کے بہاؤ اور رفتار کو کنٹرول کرنے والی چھوٹی رکاوٹوں سے بھی ایسے حملوں کے خدشے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود عین ممکن ہے کہ برطانیہ میں بھی ایسا حملہ ہو جائے لیکن پہلے سے اس سلسلے میں کی جانے والی پلاننگ سے یقناً ایسے حملوں کی شدت میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

جرمن حکام جب برلن حملے کی تحقیق کریں گے کہ ایسا کیسے ممکن ہوا کہ ایک ٹرک کے ذریعے ایس تباہی پھیلائی گئی تو ان کو خود سے یہ سوال پوچھنا پڑے گا کہ کیا انھوں نے ایسا نظام بنایا ہے جو ایسے حملوں کو روکنے میں مدد دے سکے۔