’وہ ایسے کھڑا تھا جیسے ان کا محافظ ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption التنتاش روسی سفیر کے پیچھے ایسے کھڑے تھے جیسے ان کے محافظ ہوں

جب کبھی قتل کی واردات ہوتی ہے تو کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی پروفیشنل فوٹوگرافر اس جگہ موجود ہو اور اس واردات کے چند سیکنڈز کے بعد قاتل کے چہرے کی تصورات کو اپنے کیمرہ کی آنکھ میں سموئے۔

لیکن جب روسی سفیر آندرے کارلوف کو ترک پولیس والے نے پیر کو انقرہ میں قتل کیا تو ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹوگرافر برہان اوزبلیچی وہاں سب سے اگلی نشست میں موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی سفیر آندرے کارلو کو نمائش کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا

اوزبلیچی نے انقرہ آرٹ گیلری میں اس وقت تصاویر اتاریں جب قاتل سفیر کو قتل کرنے کے بعد زور زور سے چلا رہا تھا اور ہوا میں پستول لہرا رہا تھا۔

واقع کے بعد اے پی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بلاگ میں اوزبلیچی نے لکھا کہ 'یقیناً میں بھی ڈرا ہوا تھا اور مجھے پتہ تھا کہ پستول بردار میری طرف بھی رخ کر سکتا ہے۔' اس بلاگ کو بہت شیئر کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قتل کے بعد افراتفری تھی اور لوگ جانیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے

اوزبلیچی نے لکھا کہ انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زندگی کو ختم ہوتے دیکھا۔

آندرے کارلوف کو پیر کے روز فنون لطیفہ کی ایک نمائش کے دوران اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ اس کی افتتاحی تقریب میں خطاب کر رہے تھے۔

مولود مرت التنتاش نے ترکی میں تعینات روس کے سفیر آندرے کارلوف کو ہلاک کرنے کے بعد چند سیکنڈز کے لیے ٹوٹی پھوٹی عربی میں کچھ جملوں بلند آواز میں کہے۔

انھوں نے 'اللہ اکبر' کا نعرہ بھی لگایا۔

پھر ترک زبان میں کہا: 'شام کو مت بھولو، حلب کو مت بھولو۔ وہ تمام جو اس ظلم میں ملوث ہیں ان کا احتساب ہوگا۔'

اوزبلیچی اپنی نیوز ایجنسی کے دفتر سے گھر جاتے ہوئے اس نمائش کو کور کرنے کے لیے رکے تھے۔

انھوں نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ انھوں معلوم تھا کہ یہ ایک معمول کا کام ہے اور وہ ترک۔روس تعلقات کے لیے کچھ تصاویر اکٹھی کر سکیں گے۔

انھوں نے لکھا کہ اس کے برعکس وہ قتل اور اس کے بعد ہونے والی افراتفری کے عینی گواہ بنے۔

جب 22 سالہ پولیس آفیسر التنتاش مقتول سفیر کے جسم کے گرد گھوم رہے تھے تو اس وقت وہاں موجود لوگ محفوظ مقام تلاش کر رہے تھے۔

اوزبلیچی لکھتے ہیں: 'لوگ چیخ رہے تھے، ستونوں کے پیچھے اور میزوں کے نیچے چھپے اور فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں ڈرا ہوا اور کنفیوز تھا، لیکن مجھے دیوار کے پیچھے جزوی کور مل گیا اور میں نے اپنا کام کیا: جو کہ تصاویر کھینچنا تھا۔'

انھوں نے کہا کہ انھیں پستول بردار کی طرف حرکت کرنے کے خطرے کا ادراک تھا، لیکن ان کو لگا کہ انھیں موقع کی تصاویر کھینچنی چاہیئں۔

اوزبلیچی نے اس واقع سے پہلے کے سین کی بھی تصاویر اتاریں ہیں، جب مقتول اور کمرے میں موجود لوگوں کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

'جب میں اپنی تصاویر کو ایڈٹ کرنے کے لیے دفتر آیا تو میں یہ دیکھ کر دھنگ رہ کہ قاتل حقیقت میں سفیر کے بالکل پیچھے تھا جو وہ تقریر کر رہے تھے۔ ایک دوست اور ایک محافظ کی طرح۔'

التنتاش کو ترک پولیس نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں