برلن حملے میں ملوث مشتبہ حملہ آور کون ہے؟

جرمنی، حملہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں کرسمس مارکیٹ میں ٹرک حملے میں ملوث شخص کے شناخت تیونس سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین کے طور پر ہوئی ہے۔

اُن کے بارے میں معلومات مبینہ طور پر ٹرک کی نشست کے نیچے سے ملنے والے شناختی دستاویزات کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔

٭ برلن میں ٹرک حملہ: کب کیا ہوا؟

٭ جرمنی میں کرسمس مارکیٹ میں ہلاکتیں، تصاویر

دوسری جانب برلن میں کرسمس مارکیٹ جہاں پر ایک ٹرک حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے کو دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

تاہم پولیس نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور اس قسم کے حملے کو روکنے کے لیے سیمنٹ کے بیریئر لگائے گئے ہیں۔

تیونس سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین کے شناختی دستاویزات کے مطابق اُن کا نام انس امری ہے اور وہ سنہ 1992 میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ پولیس کو اُن کے بارے میں معلومات تھیں اور انھوں نے ماضی میں مختلف شناختیں استعمال کیں۔

جرمنی میں نارتھ راہن ویسٹفیلیا کے وزیرِ داخلہ رالف جیئگر نے کہنا ہے کہ مشتبہ شخص حملے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں زیر تفتیش رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمنی میں نارتھ راہن ویسٹفیلیا کے وزیرِ داخلہ رالف جیئگر کہ مطابق مشتبہ شخص حملے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں زیر تفتیش رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی کے حکام نے نومبر میں مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا ہے اور 'مبینہ طور پر وہ ریاست کے خلاف شدید تشدد کے بارے میں منصوبہ بندی کر رہا تھا۔'

تیونس کے ریڈیو نے انس کے والد اور سکیورٹی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اٹلی کے ایک سکول میں آگ لگانے کے جرم میں چار برس تک جیل میں رہے۔

اُن کے والد نے ریڈیو سیٹشن کو بتایا کہ انس امری ایک سال قبل جرمنی آئے تھے۔

تیونس کی وزارتِ داخلہ نے انس امری کے مشتبہ ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن انھوں نے بی بی سی کو اُن کے بارے میں معلومات فراہم کیں ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ انس امیری کے معاملے پر جرمنی کے حکام نے اُن سے اب تک رابطہ نہیں کیا ہے۔ تیونس میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تطاوين میں پیدا ہوئے۔

جرمنی کے حکام نے مشتبہ حملہ آور کی گرفتاری میں معلومات فراہم کرنے والوں کے ایک لاکھ یورو کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

مشتبہ شخص کے مسلح اور پرتشدد ہونے کے بارے میں وراننگ جاری کی گئی ہیں۔

اے آر ڈی کا کہنا ہے کہ 24 سالہ انس امری پہلے اٹلی آئے اور پھر اس سال اپریل میں جرمنی پہنچنے کے بعد انھوں نے پناہ کی درخواست دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption تیونسی باشندے کا عارضی رہائشی پرمٹ ٹرک میں سے ملا تھا

مسٹر امری کو رہائش کے لیے عارضی اجازت دی گئی اور وہ پناہ گزینوں کے سینٹر میں رجسٹرڈ تھے۔

جرمنی کے ریاستی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں اُن کی پناہ کی درخواست مسترد ہو گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 'قانونی شناختی دستاویزات نہ ہونے کے سبب انھیں ملک بدر نہیں کیا گیا۔‘

خبر رساں ادارے اے پی نے جرمنی کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ انس امری کی دستاویزات کے مطابق انھوں نے چھ مختلف قوموں میں رہتے ہوئے چھ مختلف نام استعمال کیے ہیں۔

انس امری کو رواں سال اگست میں اٹلی کی جعلی شناختی دستاویزات رکھنے پر حراست میں لیا گیا تھا لیکن فوری بعد رہا کر دیا گیا۔

مقامی روزنامے کے مطابق مشتبہ حملہ آور ابو والا کے نام سے مشہور نومبر میں گرفتار ہونے والے اسلامی مبلغ احمد عبدالعزیز کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے تھے۔

اسی بارے میں