حلب سے انخلا مکمل،’شہر پر فوج کا مکمل کنٹرول‘

حلب تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغیوں کے آخری گروپ کے انخلا کے بعد حلب شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حلب کو دوبارہ محفوظ کر دیا گیا ہے اور یہ باغیوں کے لیے شدید دھچکا ہے۔‘

انٹرنیشنل کمیٹی آف دا ریڈ کراس آئی سی آر سی نے ’تمام ان تمام عام شہریوں جو شہر سے نکل جانا چاہتے تھے کے ساتھ ساتھ زخمیوں اور جنگجوؤں کے انخلا‘ کی تصدیق کی ہے۔‘

٭ حلب سے شہریوں کا انخلا اختتام کے قریب

٭ حلب: باغیوں نے انخلا کے لیے جانے والی بسوں کو نذرآتش کردیا

صدر بشار الاسد کے خلاف 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت کے بعد سے ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران تقریباً 34000 عام شہریوں اور باغی جنگجوؤں کو مشرقی حلب سے نکالا گیا ہے۔

شدید برف باری، تیز ہواؤں اور گاڑیوں کی خراب حالت کے باعث انخلا کا عمل سست رہا اور ہزاروں افراد کو سرد موسم میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔

مشرقی حلب سے نکلنے والوں کو باغیوں کے زیر انتظام شہر کے مضافاتی علاقوں اور صوبہ ادلیب لے جایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آئی سی آر سی کی ترجمان کرسٹا آرمسٹرانگ کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی یہاں سے نکلنا چاہتا تھا انھیں دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور انخلا کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

شامی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ کامیابی ایک طرف تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سٹریٹیجک تبدیلی اور نیا موڑ ہے جبکہ دوسری جانب یہ شدت پسندوں کے منصوبوں اور ان کے حامیوں کے لیے زبردست دھچکا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس جیت نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو جاری رکھنے اور اپنے ملک سے دہشت گردی کو ختم کر کے سکیورٹی استحکام کو قائم کرنے کے لیے فوج کو مزید متحرک کر دیا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں