برلن حملے کے ملزم کو اٹلی میں ہلاک کر دیا گیا

انیس عامری تصویر کے کاپی رائٹ BKA / HANDOUT

اٹلی کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ برلن مارکیٹ میں حملے کے ملزم انیس عامری کو اٹلی کے شہر میلان میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

جمعے کو صبح سویرے پولیس نے معمول کی گشت کے دوران ایک شخص کو شناخت کے لیے روکا تو اس نے پولیس پر گولی چلا دی۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ انگلیوں کے نشانات سے تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ شخص انیس عامری تھا۔ وہ اس کے ممکنہ ساتھیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

عامری کی ہلاکت: کب کیا ہوا؟

پیر کے روز برلن کی مارکیٹ میں حملے سے 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہو گئے تھے۔

اسی دوران شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں عامری کو تنظیم کے سربراہ ابوبکر بغدادی کی اطاعت کا عہد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم عامری نے برلن حملے کے بارے میں کسی قسم کا حوالہ نہیں دیا، البتہ دولتِ اسلامیہ نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پولیس مقابلہ میلان کے سیستو سان جیووانی کے علاقے میں پولیس کی معمول کی گشت کے دوران پیش آیا

اطالوی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اطالوی پولیس نے صبح کے تین بجے عامری کو پیدل چلتے ہوئے روکا، تو انھوں نے ’فوراً پستول نکال لیا' اور دو پولیس اہلکاروں پر گولی چلا دی۔

اس واقعے میں اہلکار کرستیان موویو کو کندھے میں گولی لگی، تاہم ان کا زخم زیادہ سنگین نہیں ہے۔

ان کے جونیئر ساتھی لوکا سکاٹا نے گولی چلا کر عامری کو ہلاک کر دیا۔ انھیں پولیس کی نوکری اختیار کیے صرف نو ماہ ہوئے تھے۔

جرمن حکام کو عامری کے انگلیوں کے نشانات اس ٹرک کے اندر ملے جو پیر کو برلن میں حملے میں استعمال ہوا تھا۔

وفاقی افسر استغاثہ پیٹر فرینک نے کہا کہ مجرمانہ تفتیش کا دائرہ اب اس بات تک پھیلا دیا گیا ہے کہ آیا حملہ کرنے یا فرار ہونے میں میں کسی نے عامری کی مدد تو نہیں کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ POLIZIA DI STATO
Image caption اس واقعے میں اہلکار کرستیان موویو کو کندھے میں گولی لگی، تاہم ان کا زخم زیادہ سنگین نہیں ہے

پیر کے روز جرمنی کے دارالحکومت برلن کے ایک مصروف بازار میں حملہ ہوا۔

اطالوی خبر رساں ادارے انسا کے مطابق عامری ٹرین کے ذریعے فرانس سے ٹورن گئے، اور پھر ایک اور ٹرین کے ذریعے میلان پہنچ گئے۔

عامری کی عمر 24 سال اور ان کا تعلق تیونس سے تھا۔ انھیں 2011 میں چوری اور دھمکیاں دینے کے جرم میں قید کی سزا ہوئی تھی۔

رہائی کے بعد انھیں ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا تاہم وہ جرمنی پہنچ گئے اور انھوں نے وہاں اپریل میں پناہ کی درخواست دے دی۔

یہ درخواست مسترد ہو گئی البتہ جرمن حکام انھیں ملک بدر نہیں کر سکے کیوں کہ ان کے پاس شناختی کاغذات نہیں تھے۔