مالٹا: ہوائی اڈے پر موجود طیارے سے ہائی جیکرز گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے میں موجود دو ہائی جیکرز نے اسے بم سے اڑانے کی دھمکی دی تھی

لیبیا سے مسافر طیارے کو مالٹا لے جانے والے ہائی جیکرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تمام مسافروں کو بحفاظت بازیاب بھی کروا لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق طیارے کی ہائی جیکنگ پرامن طور پر ختم ہو گئی ہے اور ہائی جیکر نے ہھتیار ڈال دیے ہیں۔

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک شخص نے طیارے سے باہر نکل کر لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے دور کا جھنڈا لہرایا اور واپس طیارے میں چلا گیا۔

مالٹا کی سکیورٹی فورسز نے اس طیارے کو گھیرے میں لے رکھا تھا جبکہ طیارے میں سوار 118 افراد میں سے 65 مسافروں کو رہا ہائی جیکر نے گرفتار ہونے سے قبل رہا کر دیا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق الفریقیہ ائیر لائینز کا طیارہ اے تھری ٹو زیرو اندرونِ ملک محوِ پرواز تھا کہ اس کا رخ موڑ کر اسے مالٹا کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا تھا۔

طیارے میں 118 افراد سوار تھے اور یہ سبا سےطرابلس جا رہا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے میں موجود دو ہائی جیکرز نے اسے بم سے اڑانے کی دھمکی دی تھی تاہم بعد ازاں مقامی میڈیا کی جانب سے یہ رپورٹس دی گئیں کہ طیارے میں موجود ایک شخص نے ہینڈ گرینڈ کے ذریعے دھماکہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

مالٹا کے وزیراعظم جوزف موسکات نے کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

مالٹا کے ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ ہوائی اڈے پر ’غیر قانونی مداخلت‘ ہوئی ہے۔

لیبیا کے علاقے سبا کے میئر کرنل حمید الخیالی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات ہیں کہ طیارے میں موجود ہائی جیکر مالٹا میں سیاسی پناہ لینا چاہتا ہے۔

طیارے میں 111 مسافر اور عملے کے سات اراکین سوار تھے۔

ملک کے وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ مسافروں میں 82 مرد اور 28 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔

مالٹا میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے منسلک فوٹوگرافر ڈیرن زمیت نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ وہاں سپیشل فورسز کی گاڑیوں اور بہت سے سپاہیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

مالٹا سے کچھ پروازوں کو اٹلی کے جزیرے سیسیلی کی جانب موڑ لیا گیا ہے۔