روس کا فوجی طیارہ بحیرۂ اسود میں گر کر تباہ

روسی جہاز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روسی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ایک فوجی جہاز بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع تفریحی شہر سوچی سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر 25 منٹ پر سوچی سے اڑان بھرنے کے دو منٹ بعد جہاز کا رابطہ ریڈار سے منقطع ہو گیا۔

اب تک جہاز کے کچھ ٹکڑے اورکئی لاشیں ملی ہیں اور کسی کے زندہ بچنے کی اطلاع نہیں ہے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق Tu-154 طیارے پر 92 افراد سوار تھے، جن میں عملے کے ارکان، فوجی اہلکار، ایک فوجی میوزک بینڈ اور صحافی بھی شامل ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ پیر کے روز قومی سوگ منایا جائے گا جبکہ ولادی میر پوتن نے حکومتی کمیشن کو اس حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

جہاز شام کے شہر لاذقیہ جا رہا تھا۔ یہ جہاز ماسکو سے اڑا تھا اور سوچی کے ایڈلر ہوائی اڈے پر ایندھن بھرنے کے لیے رکا تھا۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'وزارت کو ٹی یو 154 جہاز کے ٹکڑے بحیرۂ اسود کے ساحلی شہر سوچی سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سمندر میں 50 سے 70 میٹر گہرائی سے ملے ہیں۔'

مقامی امدادی کارکنوں نے خبررساں ادارے انٹرفیکس کو بتایا ہے کہ اس حادثے میں ابھی تک کوئی زندہ شخص نہیں ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزارتِ دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے تصدیق کی ہے کہ ’سوچی کے ساحل سے چھ کلومیٹر دور ایک شخص کی لاش ملی ہے۔‘

روسی میڈیا پر چلنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ کے مطابق جہاز کے عملے اور زمینی کنٹرول کے درمیان گفتگو کے دوران کسی قسم کی مشکل کا پتہ نہیں چلا۔

آوازیں جہاز کے غائب ہونے تک پرسکون رہتی ہیں، اور کنٹرولر رابطہ بحال کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

وزارتِ دفاع نے مسافروں کی فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق جہاز پر مشہور فوجی بینڈ الیگزینڈروف اینسامبل کے 64 ارکان، نو صحافی، آٹھ فوجی، دو سول افسر، ایک این جی او کا رکن اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔

ترجمان نے کہا کہ جہاز میں سوار مسافر شام میں تعینات روسی فوجیوں کے لیے منعقد کردہ نئے سال کی تقریب میں شرکت کرنے جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جہاز پر مشہور فوجی بینڈ الیگزینڈروف اینسامبل کے 64 ارکان سوار تھے جو روسی فوج کا سرکاری بینڈ ہے اور اسے 1928 میں قائم کیا گیا تھا

یہ تقریبات لاذقیہ شہر کے قریب واقع روسی فوجی اڈے حمیمیم میں منعقد ہونا تھیں۔

جہاز پر ایلزویتا گلنکا بھی سوار تھیں جو ڈاکٹر لز کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ فیئر ایڈ نامی خیراتی ادارے کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور انھیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کے لیے روس کے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

مقامی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ موسمی حالات پرواز کے لیے موافق تھیں۔ اس دوران تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ آیا کسی قسم کے حفاظتی قواعد کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔

روس شامی حکومت کی حمایت میں باغی دستوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

اپریل 2010 میں ایک ٹی یو 154 طیارہ مغربی روس کے علاقے سمولینسک میں گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام 96 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ 2001 میں ایک اور ٹی یو 154 جہاز کو یوکرینی فوج نے بحیرۂ اسود پر مار گرایا گیا تھا، جس سے 78 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ جنگی مشقوں کے دوران غلطی سے پیش آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انسانی حقوق کی کارکن ایلزویتا گلنکا روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ

توپولیف 154، روسی مسافر بردار جہاز

  • یہ جہاز کئی عشروں سے سوویت اور روسی فضائی کمپنیوں کے زیرِ استعمال ہے
  • اس پتلے جہاز میں تین انجن ہوتے ہیں، یہ درمیانی فاصلے تک اڑ سکتا ہے
  • اسے 60 کی دہائی میں ڈیزائن کیا گیا تھا، جب کہ 1986 میں اس میں نئے انجنوں اور آلات کا اضافہ کیا گیا
  • اب تک اس طیارے کو 39 مہلک حادثات پیش آ چکے ہیں، تاہم اس میں سے چند ہی تکنیکی خرابیوں کے باعث تھے
  • اکثر حادثات خراب موسم اور غلط ہدایات کے باعث پیش آئے
  • کئی جہاز افغانستان، جارجیا اور افغانستان میں جنگوں کے دوران تباہ ہوئے
  • اس جہاز کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔ اب صرف 50 جہاز کام کر رہے ہیں