برما کا بھولا بسرا شاہی خاندان

برما
Image caption بادشاہ تھیبا کی موت کے ایک سو سال کے بعد شاہی خاندان دوبارہ منظرعام پر آرہا ہے

برما کے بادشاہ کو تخت سے ہٹانے کے ایک صدی بعد ان کی اولاد دوبارہ منظرعام پر آرہی ہے اور یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ بادشاہ کی باقیات جو کسی دوسرے ملک میں دفن ہیں انھیں واپس لایا جائے۔

مغربی ساحل سمندر پر واقع رتناگیری کا شہر صبح صادق کے وقت خاموش دکھائی دے رہا ہے اور جہاں میں کھڑا تھا وہ خاموش اور بھولا بسرا حصہ تھا۔

تاہم اب صورتحال کچھ مختلف ہے۔

انڈیا اور میانمار کے خفیہ اداروں کے اہلکار ایک دوسرے سے کھسر پھسر کر رہے تھے اور انھوں نے سیاہ چشمے پہن رکھے تھے اگرچہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔

خیال رہے کہ میانمار برما بھی کہلاتا ہے۔

Image caption ایلکس بیسکوبی شاہی خاندان کے ہمراہ

رسمی لباس میں ملبوس برمی اس بارے میں بحث کر رہے تھے کہ میانمار کے پانچ مقدس ترین افراد، نائب صدر اور اعلیٰ فوجی اہلکار شامل تھے اور بحریہ کے ہیلی کاپٹر میں ان کی آمد متوقع تھی۔

گرد آلود سڑک پر سفید بھوتوں کی ایک لکیر میری جانب بڑھ رہی تھی۔

میری جانب قریب آتے آتے انھوں نے ہاتھ ہلائے۔

عرصہ دراز تک یہ افراد تقریبا غائب رہے۔ یہ میانمار کا شاہی خاندان تھا، سفید لباس میں ملبوس جو میانمار میں سوگ کا روایتی رنگ ہے۔

میانمار میں ان کے وجود کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس خاندان کو کوئی بھی فرد سنہ 1885 کے بعد برما کے شاہی تخت پر نہیں بیٹھا، جب برطانوی فوجوں نے سر رنڈولف چرچل، جو سر ونسٹن چرچل کے والد تھے، کے حکم پر اس ملوکیت کا خاتمہ کیا تھا۔

سنہ 1886 کے سال نو کے موقع پر کسی زمانے کی ایک باوقار سلطنت کو برٹش انڈیا کے ایک صوبے تک محدود کر دیا گیا تھا اور سنہ 1948 میں آزادی تک وہ برطانوی سلطنت کا حصہ رہا۔

Image caption شاہی خاندان کے سربراہ سو ون

برما کے نئے حکمران شاہی خاندان کے مخالف تھے اور اس کی تاریخ مٹانے کی مہم شروع ہوگئی۔

شکست خوردہ بادشادہ تھیبا کو ان کی حاملہ اہلیہ، چھوٹی ملکہ اور دو کم عمر بیٹیوں کے ہمراہ جلاوطن کر دیا گیا۔ صرف 26 سالہ بادشاہ کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی کے بقیہ 31 سال رتناگیری میں برطانوی قید میں گزارے گا۔

انڈین ریاست مہاراشٹر میں واقع رتناگیری ایک دور افتادہ علاقہ تھا اور اس کے انتخاب کی بھی یہی وجہ تھی۔ یہ تھیبا کے شاہی مرکز ماندالے سے کوئی 3000 میل کے فاصلے پر ہے اور سال کے کچھ ہی حصوں میں صرف سمندری راستے سے یہاں پہنچنا ممکن تھا اور یہ برطانیہ کے یورپی مخالفین کی پہنچ سے بھی دور تھا جس سے یہی کسی کو غائب کرنے کے لیے ایک بہترین مقام تھا۔

چنانچہ اس اقدام کو یہ کامیابی سمجھا جاتا ہے کہ آج میانمار میں سکول میں بچوں کو اس کہانی کے بارے میں صرف ایک جملے میں بتایا جاتا ہے اور بہت لوگ جانتے ہیں بادشاہ کی موت کے بعد شاہی خاندان برما واپس آگیا اور عام عوام کے درمیان ہی خاموشی سے زندگی گزارنے لگا جن پر وہ کبھی حکمرانی کرتے تھے۔

آزادی کے بعد بھی اس شاہی خاندان کو مشکوک نظروں سے بھی دیکھا جاتا۔ میانمار کی فوجی حکمران کو بھی اس شاہی خاندان سے خدشہ تھا، اور کچھ کو جیل یا قتل ہونے کا ڈر تھا کیونکہ وہ شاہی خون بہا چکے تھے۔

Image caption رتناگیری میں ایک شکستہ کمرے میں بادشاہ تھیبا کی آخری آرام گاہ ہے

لیکن اب بادشاہ تھیبا کی موت کے ایک سو سال کے بعد شاہی خاندان دوبارہ منظرعام پر آرہا ہے۔

رتناگیری میں ایک شکستہ کمرے میں بادشاہ تھیبا کی آخری آرام گاہ ہے۔

آج بادشاہ کی اعلاد کو پہلی مرتبہ انڈیا سفر کرنے اور اپنے جدامجد کو کھلے عام یاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس خاص دن کی تیاری کے لیے مقامی انتظامیہ کی جانب سے مقبرے کو صاف کیا گیا ہے اور دیواروں پر رنگ و روغن کیا گیا ہے، سفید اور نارنجی پھولوں سے سجایا گیا ہے۔

تھیبا کے پڑپوتے یو سو ون نے میرے ہاتھ تھامے اور مسکراتے ہوئے کہا 'آخر وہ دن آگیا ہے۔'

اگر تاریخ مختلف ہوتی تو میرے سامنے کھڑا یہ شخص برما کا بادشاہ ہوتا۔ اس کے والد 1940 کی دہائی میں تقریبا دوبارہ تخت نشیں ہوچکے تھے لیکن سنہ 1948 میں ان کے مشکوک قتل نے یہ شاہی خاندان کا راستہ بند کر دیا۔

Image caption سو ون کی سب سے چھوٹی بیٹی سینڈی اپنے آنسو روک نہ سکی

اب سو ون اپنے خاندان کے سربراہ ہیں اور وہ تاریخی کتب سے رجوع کر رہے ہیں۔

جیسے ہی وہ مقبرے کے قریب گئے رنگ برنگی ساڑھیوں اور زیورات میں ملبوس انڈین خواتین اور بھاری سونے کی چینوں اور سفید قیمضیں پہنے مرد آگے بڑھے۔

یہ سو ون کے کزن ہیں، اور شاہی بھی۔ وہ تھیبا کی سب سے بڑی بیٹی کے اولاد میں سے ہیں، جس کا بادشاہ کے انڈین چوکیدار کے ساتھ خفیہ تعلق تھا اور اس کی وجہ سے اس کو خاندان سے نکال دیا گیا۔ ان کی ایک بیٹی ٹو ٹو تھی۔

آج یہ سب افراد تاریخی جشن کے لیے ایک ساتھ تھے اور اپنے مشترکہ جدامجد کے مقبرے کے سامنے چاروں شانے چت لیٹے۔

سو ون کی سب سے چھوٹی بیٹی سینڈی اپنے آنسو روک نہ سکی اور کیمرے سے بچنے کے لیے مقبرے کے پیچھے اوجھل ہوگئی۔

سینڈی نے مجھے بتایا: 'میں نے اس کی امید نہیں کی تھی۔ میرے لکڑ دادا کو اپنے گھر سے اتنے دور دفن ہوئے ہوئے دیکھنا، اور اپنے انڈین خاندان سے پہلی بار ملنا، ان کی اتنی سخت زندگی تھی۔'

Image caption میانمار کے سینیئر جنرل من آنگ ہلینگ بودھ بھکشوؤں کے ہمراہ

میانمار کے نائب صدر یو مینٹ سوے اور سینیئر جنرل من آنگ ہلینگ اب بھی خاصے طاقتور تھے اور اس تقریب کی سربراہی کر رہے تھے۔

اس بارے میں بہت سارے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ میانمار کے فوجی افسران نے شاہی خاندان کے ہمراہ یہاں آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ یہ تو ایک ذاتی دورہ تھا۔

لیکن ابھی ماحول برما کے بھولے بسرے شاہی خاندان کے جشن کا ہے۔ اگرچہ برما کا آخری بادشاہ اپنے ملک سے بہت دور ہے، وہ اور اس کا خاندان آہستگی سے دوبارہ منظرعام پر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں