اسرائیل مخالف ووٹ کے بعد اسرائیل نے امریکی سفیر طلب کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غربِ اردن میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد اسرائیل نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن نے اس ووٹ کی حمایت کی۔

اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور تل ابیب میں امریکی سفیر کو طلب کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو جو وزیر خارجہ بھی ہیں نے امریکی سفیر ڈین شپیرو کو وزیر اعظم ہاؤس طلب کر کے یہ غیر معمولی قدم اٹھایا۔

اسرائیل نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا ہے جب وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے شرمناک قدم کی مخالفت کرے گا۔

اسرائیل نے اپنے قریبی حلیف امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے سلامتی کونسل میں ووٹ کو منظم کیا۔ تاہم امریکہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا 'جو معلومات ہمیں ہیں ہمیں کوئی شک نہیں کہ اوباما انتظامیہ نے اس ووٹ کی ابتدا کی، اس کی حماحت کی، اس کے الفاظ کے حوالے سے رابطے کیے اور مطالبہ کیا کہ اس قرارداد کو منظور کیا جائے۔'

انھوں نے مزید کہا 'دوست دوستوں کو سلامتی کونسل میں نہیں لے کر جاتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو جو وزیر خارجہ بھی ہیں نے امریکی سفیر ڈین شپیرو کو وزیر اعظم ہاؤس طلب کر کے یہ غیر معمولی قدم اٹھایا

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے دفتر خارجہ کو حکم دیا کہ ان ممالک کے سفیروں کو طلب کیا جائے جنھوں نے سلامتی کونسل میں قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی تاہم گذشتہ چند روز میں امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مصر نے اسے موخر کر دیا تھا۔ اس کے بعد سلامتی کونسل کے دیگر ممالک نیوزی لینڈ، سینیگال، وینزویلا اور ملائیشیا نے اس قرارداد کو دوبارہ پیش کیا اور اسے منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد اسرائیل نے نیوزی لینڈ اور سینگال سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ اس کے علاوہ سینیگال اور یوکرین کے وزرائے خارجہ کے اسرائیل کے دوروں کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس قرارداد کو واپس کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے پانچ اداروں کی مالی معاونت روک دی ہے اور یہ وہ ادارے تھے جو اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں۔

ماضی میں امریکہ نے ایسی قراردادوں کو ویٹو کر کے اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے روایتی امریکی پالیسی ترک کر کے اس مرتبہ اس قرارداد کو منظور ہونے دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 14 نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالے جبکہ امریکہ نے ووٹ ڈالنے سے انکار کر دیا، تاہم اس نے اس موقعے پر قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق بھی استعمال نہیں کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں