روس طیارہ حادثہ: لاشوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مقامی امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ اس حادثے میں ابھی تک کوئی زندہ شخص نہیں ملا

اتوار کو بحیرۂ اسود میں گر کر تباہ ہونے والے روسی فوجی طیارے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

اس حادثے کے نتیجے میں طیارے پر سوار تمام 92 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد آج یعنی پیر کے روز روس میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔

ساحلی شہر سوچی کے قریب سمندر میں ہلاک شدگان کی لاشوں اور طیارے کے ملبے کی تلاش کا کام بڑے پیمانے جاری ہے جس میں تین ہزار سے زائد افراد حصہ لے رہے ہیں۔

ان افراد میں 109 غوطہ خوروں کے ساتھ ساتھ بحری جہاز، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔

تلاش کے دوران طیارے کے کچھ ٹکڑے تو ملے ہیں تاہم اس قبل طیارے کے ڈھانچے کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات کو بعد میں مسترد کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے اعلان کے بعد پیر کو یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔

روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر میکسم سوکولوف نے کہا ہے کہ حادثہ پائلٹ کی غلطی یا پھر تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ماسکو میں لوگوں نے الیگزینڈروف انسامبل بینڈ کے مرنے والے فنکاروں کی یاد میں پھول سجائے ہیں

وزارتِ دفاع کے مطابق Tu-154 طیارے پر عملے کے ارکان، فوجی اہلکار، ایک فوجی میوزک بینڈ اور صحافی سوار تھے اور یہ شام کی جانب پرواز کر رہا تھا۔

تلاش کی کارروائیاں تین شفٹوں میں جاری ہیں۔ وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل اگور کونشنکوف نے پیر کی صبح ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ’یہ کارروائی ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رکی۔

انھوں نے کہا کہ اب تک 11 لاشیں اور جہاز کے ملبے کے 154 ٹکڑے ملے ہیں۔

اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ اس کی توجہ ساحل کے قریب ساڑھے دس مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر 25 منٹ پر سوچی سے اڑان بھرنے کے دو منٹ بعد طیارے کا رابطہ ریڈار سے منقطع ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طیارے میں عملے کے ارکان، فوجی اہلکار، ایک فوجی میوزک بینڈ اور صحافی سوار تھے

پیر کے روز روسی وزیرِ ٹرانسپورٹ میکسم سولوکوف نے کہا کہ جہاز کے حادثے کی ممکنہ وجہ دہشت گردی نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ تفتیش کار اس پہلو پر تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا حادثے کا باعث کوئی تکنیکی خرابی تھی یا پھر پائلٹ کی غلطی۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے حکومتی کمیشن کو اس حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

طیارہ شام کے شہر لاذقیہ جا رہا تھا۔ یہ جہاز ماسکو سے اڑا تھا اور سوچی کے ایڈلر ہوائی اڈے پر ایندھن بھرنے کے لیے رکا تھا۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'وزارت کو ٹی یو 154 جہاز کے ٹکڑے بحیرۂ اسود کے ساحلی شہر سوچی سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سمندر میں 50 سے 70 میٹر گہرائی سے ملے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات