رومانیہ: مسلمان خاتون امیدوار مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

رومانیہ کے صدر کلاوس یوهانیس نے سوشل ڈیموکریٹس کی وزیراعظم کے عہدے کے لیے امیدوار سیول شائدہ کو مسترد کر دیا ہے۔

وزیراعظم کے عہدے کی امیدوار سیول شائدہ اگر منتخب ہو جاتیں تو وہ رومانیہ کی پہلی خاتون مسلمان وزیراعظم ہوتیں۔ تاہم صدر یوھانیس نے ان کو مسترد کرنے کے فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

سیول شائدہ کو ان کے کم سیاسی تجربے کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ وہ صرف ایک بار علاقائی وزیر رہ چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے مسترد ہونے کی ایک وجہ ان کے شامی شوہر کا پس منظر بھی ہو سکتا ہے۔

اس فیصلے کے ردعمل میں پی ایس ڈی کے قائد لیویو ڈریگنیا کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت صدر یوھانیس کا مواخذہ کرنے کے بارے میں غور کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی امیدوار سیول شائدہ کو مسترد کرنے کی کوئی آئینی وجہ موجود نہیں ہے۔ انھوں نے صدر یوھانیس پر ’سیاسی بحران شروع کرنے‘ کا الزام بھی لگایا۔

پی ایس ڈی جماعت نے رواں ماہ پارلیمانی انتخاب جیتا تھا اور اسے امید تھی کہ وہ ایک مخلوط حکومت قائم کر لے گی۔

اب پی ایس ڈی اور اے ایل ڈی ای جو کہ پارلیمان میں اکثریت میں موجود ہیں صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتی ہیں اور اس کے بعد ملک میں ایک ماہ میں ریفرینڈم ہو سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس سے قبل کبھی بھی کسی صدر نے نامزد وزیراعظم کو مسترد نہیں کیا۔

پی ایس ڈی کے قائد لیویو ڈریگنیا سابقہ انتخابات میں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے دو سال تک وزیراعظم کے عہدے کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے تاہم سیول شائدہ کو ان کی قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔

سیول شائدہ رومانیہ میں بسنے والی ترک اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ معاشی امور اور سرکاری نوکری کرتے ہوئے گزارا۔ انھیں سیاست میں ناتجربہ کار تصور کیا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے ترقیاتی وزیر کی حیثیت سے فقط چھ ماہ کام کیا تھا۔

یاد رہے کہ رومانیہ کے سابق وزیرِ اعظم وکٹر پونٹا نے ایک نائٹ کلب میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد کی ہلاکت اور اس کے خلاف 20 ہزار افراد کی جانب سے کیے جانے والے مظاہرے کے ایک دن بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔