برلن حملہ: انیس عامری کا ایک ساتھی برلن سےگرفتار

برلن حملہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے

جرمنی میں پولیس نے برلن حملے میں ملوث تیونسی باشندے انیس عامری کےایک جاننے والے شخص کو برلن سےگرفتار کیا ہے۔

جرمن استغاثہ کا کہنا ہے کہ برلن حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں جس چالیس سالہ شخص کو برلن کے ٹیمپلہوف علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے اس کا فون نمبر انیس عامری کے فون سے حاصل کیا تھا۔

برلن کے کرسمس بازار پر ٹرک کے ذریعے حملے میں بارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ جرمن پولیس نے حملے کے فوراً ایک پاکستانی پناہ گزین کو حملے کے شبہے میں گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں اسے ناکافی شہادتوں کی وجہ سے رہا کر دیا تھا۔

برلن میں حملے کا اصل محرک انیس عامری گذشتہ ہفتے اٹلی میں پولیس کے ہاتھوں مارا جا چکا ہے۔ ادھر تیونس میں پولیس نے انیس عامری سے تعلق رکھنے والے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس برلن حملہ آور کی نقل و حرکت کی ایک تصویر بنا رہی ہے

ادھر نیدرلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ انھوں نے نائیمیخن سٹیشن کے سی سی ٹی پر ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جس کا قوی امکان ہے کہ وہ انیس عامری ہی ہے۔ پولیس یہ تحقیق کر رہی ہے کہ کیا انیس عامری برلن حملے کے فوراً بعد ہالینڈ پہنچ گیا تھا جہاں سے وہ آگے اٹلی چلا گیا۔

انیس عامری کے بیگ سے ایسی ڈچ سم بھی ملی تھی جو اس نےابھی استعمال نہیں کی تھی۔

پولیس حکام برلن حملے کے بعد سے حاصل ہونی والی شہادتوں کی روشنی میں حملہ آور کی نقل و حرکت کی ایک تصویر تیار کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حملہ آور برلن میں حملے کےبعد کیسے فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔

اسی بارے میں