فرانسیسی صدر کی معافی کے بعد قاتل بیوی کو رہا کر دیا گیا

جیکولین سواج تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جیکولین سواج نے سنہ 2012 میں اپنے شوہر کو قتل کر دیا تھا۔

فرانس میں ایک 60 سالہ خاتون کو اپنے شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں صدر فرانسوا اولاند کی مداخلت کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

جیکولین سواج نے سنہ 2012 میں اپنے شوہر کو قتل کر دیا تھا۔

جیکولین سواج پر کئی دہائیوں تک ان کے شوہر مظالم کرتے رہے اور رائے عامہ میں ان کی گرفتاری ایک متنازع معاملہ بن گئی تھی۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے جنوری کے آخر میں جیکولین سواج کی جزوی معافی جاری کی تھی تاہم عدالتوں نے دو بار ان کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

تاہم اب فرانسوا اولاند نے جیکولین سواج کو مکمل معافی دی جس کے بعد انھیں بدھ کی شام جیل سے رہا کر دیا گیا۔

فرانسیسی صدر نے ایک ٹویٹ میں کہا ’میں نے جیکولین سواج کی باقی سزا کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ساتھ ہی ان کی نظر بندی فوری طور ختم ہو گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے محسوس کیا ہے کہ جیکولین سواج کی جگہ جیل نہیں بلکہ ان کے خاندان کے ساتھ ہے۔

فرانس میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے جیکولین کی رہائی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ادھر فرانس کی مجسٹریٹ یونین کے سربراہ ورجائین ڈیول نے کہا ہے کہ صدر نے ’عوامی رائے عامہ‘ کو خوش کرنے کے لیے جیکولین کو معاف کیا ہے تاہم عدلیہ نے قانون پر عمل کرتے ہوئے ان کی اپیل کو مسترد کیا تھا۔

فرانس کی ایک مقامی عدالت نے رواں برس اگست میں جیکولین کو پیرول پر رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

جیکولین سواج کی بیٹیوں نے سنہ 2014 میں اپنی والدہ کی رہائی کے لیے مہم شروع کی تھی۔

ان کا موقف تھا کہ ان کی والدہ پر ان کے شوہر نے ساری زندگی مظالم کیے اور جب ان کے بیٹے نے خود کشی کی تو انھوں نے اگلے دن ایک بندوق کے ذریعے اپنے خاوند کی گولی مار دی۔

  • جیکولین سواج کو 47 سالہ ازدواجی زندگی میں اپنے شوہر کی جانب سے تشدد کا سامنا رہا اور اس کی وجہ سے انھیں چار بار ہسپتال بھی جانا پڑا۔
  • ان کے بیٹے کو بھی اپنے باپ سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ان کی تین میں سے دو بیٹیوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی ہوئی۔
  • نو ستمبر 2012 کو ان کے بیٹے نے خود کشی کر لی۔
  • 10 ستمبر 2012 کو جیکولین سواج نے اپنے خاوند کو تین گولیاں ماریں۔
  • اکتوبر 2014 میں انھیں اپنے شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں دس برس کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
  • دسمبر 2015 میں اپیل کورٹ نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔
  • جنوری 2016 میں فرانس کے صدر فرانسوا اولاندنے جیکولین کی تین بیٹیوں سے ملاقات کی اور انھوں نے صدر سے جیکولین سواج کو وقت سے پہلے رہا کرنے کی اپیل کی۔
  • 28 دسمبر سنہ 2016 کو انھیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات