فلسطینی مسئلے کا دو ریاستی حل ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption براک اوباما کے دور میں اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ رہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سےفلسطینی مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کےخلاف قرارداد کے منظور ہونےکے بعد عشروں پرانا مسئلہ ایک بار بھر منظر عام پر آ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کی منظوری کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یایو نے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا جس کا جواب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک طویل پریس کانفرنس میں دیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر اس نے فلسطینی زمین پر بستیاں قائم کرنے کی پالیسی ترک نہ کی تو دو ریاستی حل کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

٭ اسرائیل مخالف ووٹ: اسرائیل نے امریکی سفیر طلب کر لیا

٭ اسرائیل نے یونیسکو سے تعلقات منجمد کر دیے

دو ریاستی حل کیا ہے؟

فلسطین کےمسئلے کا دو ریاستی حل کا خیال اسرائیل کے قیام سے ایک سال پہلے 1947میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ نے برطانیہ کے زیر انتظام فلسطینی علاقے میں یہودی ریاست کے قیام کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس قرار داد میں کہا گیا کہ فلسطین کے علاقےمیں دو ریاستیں قائم ہوں گے ایک یہودی اور ایک عرب۔

انیس سو سڑسٹھ کی عرب۔اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے بہت سے عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

1990 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا تھا۔لیکن اس معاہدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی دوران اسرائیل نے غرب اردن میں درجنوں یہودی بستیاں قائم کیں جن میں چار لاکھ اسرائیل قیام پذیر ہیں جبکہ 26 لاکھ فلسطینی بھی اسی سرزمین پر بستے ہیں۔

یہ یہودی بستیاں اسرائیل اور فلسطین کے مابین کسی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں امریکہ کے سوا تمام ممبران نے یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور امریکہ جو ہمیشہ اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کر دیتا ہے اس نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔

کیا دونوں فریق اب بھی دو ریاستی حل چاہتے ہیں

سرکاری طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ یہودی بستیوں کےبڑے حامیوں میں سے ایک ہیں۔ بنیامن کی حکومت اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ قدامت پسند حکومت سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل کے وزیرتعلیم نفطالی بینٹ جو انتہائی دائیں بازو کی یہودی جماعت کے سربراہ ہیں، وہ دو ریاستی حل کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ نفطالی بینٹ چاہتے ہیں کہ اسرائیل کو غرب اردن کو اپنے قبضے میں کر لےتاکہ فلسطینی ریاست کا قیام عملی طور ممکن ہی نہ رہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس دو ریاستی حل کے حامی ہیں اور انھوں نے فرانس کی جانب سے پیش ہونے والے امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔

فلسطینی لوگ دن بدن دو ریاستی حل سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے کے نتائج کے مطابق دو تہائی فلسطینی سمجھتے ہیں کہ دو ریاستی حل اب ناقابل عمل ہو چکا ہے۔

فلسطین کے دوسرے علاقے غزہ کی پٹی پر اسلامی موومنٹ حماس کی حکومت ہے جواسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سےانکار کرتی ہے۔

یہ مذاکرات پھر سے شروع ہوسکتے ہیں؟

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی سربراہی میں 2014 میں امن مذاکرات کو شروع کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں جو مکمل طور ناکام ہو چکی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سےبات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن فلسطینی اس وقت تک بات چیت کے لیے تیار نہیں جب تک فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں پر کام روک نہیں دیا جاتا۔

اسرائیلی حکومت کا مطالبہ ہے کہ فلسطینی پہلے اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کریں۔

اگر فلسطینی ایسا کرتے ہیں تو ان کا یہ موقف کمزور پڑ سکتا ہے کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطین سےبے دخل ہونے والے فلسطینوں کو واپس آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

فرانس کے زیر انتظام 15 جنوری پر فلسطین پر عالمی کانفرنس کا انعقاد ہونا طے ہے جس میں ستر ممالک شریک ہوں گے۔ اس کانفرنس کےمقاصد میں مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بات چیت کےعمل پھر سے شروع کرنا مقصود ہے۔

اسرائیل نےاس کانفرنس کی مخالفت کرتے ہوئے براہ راست مذاکرات پر زور دیا ہے۔ فلسطین نے عالمی کانفرنس کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ برسوں کے مذاکرات کے باوجود اسرائیلی قبضہ ختم نہیں ہو سکا ہے۔

اسی بارے میں