’اسلامی شدت پسندوں کی دہشتگردی سب سے بڑا چیلنج ہے‘

اینگیلا میرکل تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمن چانسلر اینگیلا میرکل کا نئے سال کے موقعے پر قوم کے نام پیغام

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے نئے سال کے پیغام میں کہا ہے کہ جرمنی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے دہشت گردی ہے۔

انھوں نے برلن میں ٹرک کے ذریعے حملے کرنے والے تیونس کے پناہ گزین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پناہ چاہنے والوں کی جانب سے اس طرح کے دہشت گردانہ حملے کا سوچ کر کراہت آتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 2016 ’سخت امتحانات‘ کا سال تھا تاہم انھوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ جرمنی ان میں کامیاب ہو سکے گا۔

انگیلا میرکل نے کہا ’ہم دہشت گردوں سے کہنا چاہتے ہیں، 'تم نفرت سے بھرے قاتل ہو لیکن تم یہ طے نہیں کر سکتے کہ ہم کیسے رہیں یا ہم کیسے جینا چاہتے ہیں۔ ہم آزاد ہیں، بامروت اور روشن خیال ہیں۔‘

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل برلن میں کرسمس کے موقعے پر بھرے بازار میں ٹرک دوڑانے سے 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں سال کے اوائل میں ایک نوجوان افغان پناہ گزین نے وئرزبرگ میں کلہاڑی سے ایک ٹرین میں حملہ کیا تھا جس میں پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ شام کے ایک پناہ گزین کی درخواست مسترد کردی گئی تھی تو اس نے شہر آنسباخ کے ایک شراب خانے کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس میں 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کے نتیجے میں جرمن چانسلر کو تنقید کا نشانہ بنایا گيا تھا کیونکہ انھوں نے گذشتہ سال دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برلن میں ہونے والے حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے

تاہم جرمن چانسلر نے اپنے نئے سال کے پیغام میں کہا ہے کہ شام اور حلب کی تباہی کی تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جرمنی کے لیے یہ کتنا ’اہم درست‘ فیصلہ تھا کہ انھوں نے جنگ سے فرار ہونے والوں کو اپنے ہاں جگہ دی۔

انھوں نے کہا ’یہ چیزیں ہماری جمہوریت، قانون کی بالا دستی اور اقدار میں مضمر ہیں۔ اور یہ دہشت گردی کی نفرت انگیز دنیا کے خلاف ہیں اور اس سے زیادہ مضبوط ثابت ہوں گی۔ ایک ساتھ ہم مضبوط تر ہیں۔ ہمارا ملک مضبوط تر ہے۔‘

انگیلا میرکل نے ’غلط بیانیوں‘ کی مذمت کی جس سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یورپی یونین اور پارلیمانی جمہوریت قابل عمل نہیں رہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کی ’رفتار سست اور مشکلات بھری‘ رہی اور برطانیہ کے نکل جانے سے اسے دھچکہ لگا ہے تاہم اب اسے ریاستوں کے بجائے ان چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جس میں وہ بہتر ہیں۔

انھوں نے مزید کہا ’ہم جرمنی کے باشندے کبھی اس مغالطے میں نہیں پڑیں گے کہ قومی طور پر ہمارا تنہا ہو کر چلنا ہمارے بہتر مستقبل کا ضامن ہوگا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں