مشرقِ وسطیٰ 2016 میں بھی سلگتا رہا

گذشتہ 12 ماہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے لیے خاصے ہنگامہ خیز رہے۔ جنگ اور اس کی تباہ کاریاں، عوام کی حالتِ زار اور عسکری کاروائیوں سمیت سال 2016 مشرق وسطیٰ کے بہت بے چین ثابت ہوا۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے مدیر جیرمی بوائن نے سال 2016 میں خطے کے پانچ اہم مسائل پر نظر ڈالی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دولتِ اسلامیہ

بعض افراد کو امید تھی کہ سال 2016 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن شاید اب ایسا 2017 میں ہی ممکن ہو۔ ابھی بھی جو یہ توقع کرتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کو آسانی سے شکست دی جا سکتی ہو وہ لوگ کچھ زیادہ ہی خوش امید ہیں۔

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے عراقی حکومت کا آپریشن بھی رک گیا ہے۔ امریکیوں کے اعداد و شمار کے مطابق اپنے ہی ملک میں جنگ لڑنے والی گولڈن بریگیڈ میں ہلاکتوں کی شرح 50 فیصد ہے۔

امریکی فوجیوں سے تربیت یافتہ عراق کی گولڈن بریگیڈ ملک کی انسدادِ دہشت گردی سروس کا حصہ ہے، جو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے لڑ رہی ہے۔

دسمبر کے آغاز میں موصل میں جاری آپریشن میں سستی آئی کیونکہ انسدادِ دہشت گردی سروس میں ہلاکتوں کی شرح بڑھنے سے تربیت یافتہ افراد کے ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

عراقی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ اب توپ خانے اور فضائی آپریشن پر زیادہ انحصار کریں گے لیکن اس میں عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حلب

شام میں حکومتی افواج کے اتحاد نے آخر کار سال کے اختتام پر حلب کا فیصلہ کن معرکہ اپنے نام کر ہی لیا، لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ شام کی اتحادی افواج میں روس، ایران، لبنان کی حزبِ اللہ اور دوسری کئی ملیشیا شامل ہیں۔

شام کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور پہلے سے زیادہ اب جنگ حکومت اور اُن کے درمیان ہے جو اُسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

اب جنگ میں اُن بڑی طاقتوں کا ایجنڈا زیادہ نمایاں ہے جنھوں نے شام کی جنگ میں مداخلت کی۔

مثال کے طور ایک معاملہ جس کا حلب پر اثر ہوا، وہ ترکی کا فیصلہ تھا، جس کے تحت ترکی نے کردوں سے لڑائی کو ترجیح دی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ترکی کو روس سے تعلقات بہتر کرنا ہوں گے اور حلب کو اپنی نظروں سے اوجھل کرنا ہو گا کیونکہ وہاں ترکی کے سابق موکل (یعنی دولتِ اسلامیہ) سے روس کی قیادت میں لڑائی جاری ہے۔

اگر 2017 میں بھی جنگ بندی کا کوئی ایسا معاہدہ نہ ہوا جس سے بامعنی امن مذاکرات کی راہ ہموار نہ ہو سکی، تو مزید شامی عوام ہلاک ہوں گے اور جنگ جاری رہے گی جو بحران، تشدد اور عدم استحکام کو آگے بڑھائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یمن

جنگ زدہ برسوں، بدعنوانی اور ترقی پذیری سے یمن پہلے ہی ناتواں تھا لیکن حوثی باغیوں اور سعودی اتحادی کی کارروائیوں نے اسے آفت سے دوچار کر دیا ہے۔

حتمی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا لیکن ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں اب تک دس ہزار افراد ہلاک اور 37 ہزار عام شہری زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق یمن میں ایک کروڑ 90 لاکھ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ آدھی سے زیادہ آبادی کے لیے صحت عامہ کی خدمات موجود نہیں ہیں۔

بڑی تعداد میں یمن کی آبادی نے جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کی ہے۔

ویسے تو ہر جنگ ہی تباہ کن ہوتی ہے لیکن یمن کی جنگ میں بے ڈھنگے پن کے آثار نمایاں ہیں، جس میں خطے کے امیر ترین ممالک غریبوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی مدد امریکہ اور برطانیہ نے بھی کی ہے، جو سعودی عرب اور اُس کے اتحادی ممالک کو کثیر تعداد میں اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔

تمام تر طاقت کے باوجود سعودی عرب حوثی باغیوں کو پسپا نہیں کر سکی، جس کا مطلب یہ ہے کہ 2017 میں بھی یمنی عوام کی قسمت میں پریشانیاں اور ہلاکتیں ہیں۔ ایسے میں القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے جہادیوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے اُن کے پاس نہ صرف ایک محفوظ ٹھکانہ ہے بلکہ یمن سے بھرتیوں کا ذریعہ بھی موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نوجوان آبادی

مشرق وسطیٰ کی آبادی میں نوجوانوں کی اکثریت ہے۔ یہاں کی 60 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ ان کے اندر موجود مایوسی اور برہمی نے سنہ 2011 میں شروع ہونے والی تحریک کو ہوا دی تھی۔

پانچ سال گزر گئے لیکن 2011 میں جن محرومیوں نے انھیں سڑکوں پر نکالا تھا وہ ابھی تک موجود ہیں۔ بےروزگاری عام ہے اور اسی لیے بدعنوانی بھی ہے۔

مصر میں فرقہ وارانہ لڑائیاں، اقتصادی ناکامی، عدم اطمینان اور ضبط کی وجہ سے ایک اور طرح کا طوفان آ چکا ہے۔ شام، لیبیا، اور یمن جنگ کی گرفت میں ہیں۔

سعودی عرب کے رہنماؤں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس بے اطمینانی کی قیمت کے عوض دنیا کی تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کی حکمتِ عملی اب زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی۔

انھوں نے اپنی معیشت میں اصلاحات کے لیے نئی پالیساں متعارف کروائی ہیں لیکن یہاں پرانا سعودی مسئلہ بھی جوں کا توں برقرار ہے، جس کے تحت اصلاحات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ تبدیلی سے اقتدار کرنے والے خاندان کی حکمرانی اور مذہبی اقتدار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیل اور فلسطین

گو یہ مسئلہ اپنی شہ سرخیوں کے مقابلے میں زیادہ گھمبیر ہے اور خطے بھر میں جاری عدم استحکام کی وجہ سے کہیں دب کر رہ گیا۔

سال بھر میں اس پر کم نظر رکھی گئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ختم ہو گیا ہے۔ دوطرفہ نفرت کی بنیادی وجوہات تاحال موجود ہیں اور ویسے ہی تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہیں جیسے گذشتہ کئی نسلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس مسئلے نے اُن لوگوں کو بھی برہم رکھا ہے جو کبھی یروشلم گئے بھی نہیں ہیں۔ ایک ایسا مشرق وسطیٰ جو یقینی طور پر دوبارہ سلگ سکتا ہے۔

اسی بارے میں