ملک بدر کیے گئے 35 روسی سفارتکاروں نے امریکہ چھوڑ دیا

روس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدر اوباما نے 35 روسی سفارتکاروں کو 72 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے امریکہ سے بے دخل کیے جانے والے 35 روسی سفارت کاروں نے ملک چھوڑ دیا ہے۔

ایک سفارتی اہلکار کا کہنا تھا کہ جہاز میں بے دخل کیا گیا سارا عملہ اور ان کے خاندان سوار ہیں جو اپنے منزل کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔

امریکی انتخاب میں روسی مداخلت: تفصیلی رپورٹ جاری

’’ہیکنگ کے بارے میں وہ معلومات ہیں جو کسی اور کو نہیں‘

روس اور مغرب کے تعلقات میں خرابی شروع کہاں سے ہوئی؟

صدر اوباما نے صدارتی انتخاب کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی اور ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کی ہیکنگ کے الزامات کے بعد روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الزامات کے حوالے سے مزید معلومات افشا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

روسی خبررساں ادارے تاس نے امریکہ میں روسی سفارتخانے کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ سال نو پر طیارہ واشنگٹن سے پرواز کرچکا ہے۔

یہ جہاز روسیا ایئرلائنز کا حصہ ہے جو روسی صدر اور سرکاری اہلکاروں کے استعمال میں رہتا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے 35 روسی سفارتکاروں کو 72 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر پوتن نے ڈونلڈ‌ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے قیام کا بھی عندیہ دیا تھا

امریکہ کی طرف سے 35 روسی سفارت کاروں کو امریکہ بدر کیے جانے اور روسی انیٹلی جنس اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے بعد روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس جواباً کسی امریکی سفارت کار کو ملک بدر نہیں کرے گا۔

صدر پوتن نے ڈونلڈ‌ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے قیام کا بھی عندیہ دیا تھا۔

دوسری جانب امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کو وہ معلومات ہیں جو کسی اور کو نہیں ہیں اور وہ منگل یا بدھ کو یہ معلومات منظر عام پر لائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الزامات کے حوالے سے مزید معلومات افشا کرنے کا وعدہ کیا ہے

انھوں نے کہا 'میں اس بارے میں پوری یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک سنگین الزام ہے۔ اگر آپ وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کی بات کریں تو وہ سراسر جھوٹ تھا۔ اس لیے میں بالکل مطمئن ہونا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک سنگین الزام ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ان کو ہیکنگ کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔ 'ہیکنگ کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ ہیکنگ کے پیچھے کوئی اور ہو۔ اور مجھے ایسی باتوں کا علم ہے جو دوسروں کو نہیں ہے اس لیے وہ اس صورتحال کے بارے میں پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔'

اسی بارے میں