سپین: سرحد پر افریقی پناہ گزینوں کا دھاوا، درجنوں محافظ زخمی

سیوٹا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرحد عبور کرنے کی کوشش میں ایک پناہ گزین کو چھ میٹر اونچی دیوار پر چپکا ہوا دیکھا جا سکتا ہے

مراکش اور سپین کی سرحد پر ایک ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کے سرحد عبور کرنے کی کوششوں میں 50 مراکشی اور پانچ سپینی سرحدی گارڈز زخمی ہو گئے ہیں۔

تقریبا 1100 پناہ گزین سپین کے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

حکام نے بتایا کہ ان میں سے صرف دو پناہ گزین سرحد پار کرنے میں کامیاب رہے لیکن 20 فٹ اونچی دیوار عبور کرنے میں وہ زخمی ہو گئے اور انھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال روانہ کر دیا گيا ہے جبکہ سرحد میں داخل ہونے کی کوششوں سے روکنے کے دوران ایک سرحدی محافظ کی آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دسمبر میں 400 سے زیادہ پناہ گزین سیوٹا کی دیوار عبور کرنے میں کامیاب رہے تھے اور اُن کی اس کامیابی سے ہزاروں نئے پناہ گزینوں کو تحریک ملی تھی۔

جنوبی افریقہ کے وسیع ریگستانی علاقے والے ممالک کے ہزاروں پناہ گزین مراکش میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں اور وہ یورپ میں داخل ہونے کی امید میں ہر سال مراکش کی سرحد پر موجود سپین کے شمالی افریقی انکلیوز میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

Image caption سیوٹا میں شمالی افریقی ممالک کے لیے سپین کے انکلیوز ہیں

سیوٹا اور میلیلا کے انکلیوز افریقہ میں یورپ کی واحد زمینی سرحدیں ہیں۔

زیادہ تر پناہ گزینوں کو سرحد عبور کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور انھیں مراکش واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ جو سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں انھیں یا تو دوبارہ ملک بدر کر دیا جاتا ہے یا پھر انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سیوٹا میں سپین کے حکام نے سرحد پار کرنے کی حالیہ کوشش کو انتہائي پرتشدد اور منظم قرار دیا ہے جو کہ مقامی وقت کے مطابق نئے سال میں صبح چار بجے ہوئي تھی۔

درجنوں افراد سرحدی باڑ پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن سپینی سرحدی گارڈز انھیں واپس مراکش بھیجنے میں کامیاب رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں