ڈونلڈ ٹرمپ سے ریپبلکن پارٹی کی رہنما پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسٹر ٹرمپ کے ہاں سائنسی تحقیق اور ماحول کو بچانے سے متعلق پالیسیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے : کرسٹین ٹوڈ وِٹمین

امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کی ایک سرکردہ رہنما نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں ہونے سے انھیں فکر ہے کہ ان کے سات پوتے پوتیوں کا مستقبل کیا ہو گا۔

سابق صدر جارج بُش کے دور صدارت میں امریکہ کے ادارۂ ماحولیات، اینوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کی سربراہ رہنے والی کرسٹین ٹوڈ وِٹمین کا الزام ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق دستیاب سائنسی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار بی بی سی کے ریڈیو فور سے بات چیت کے دوران کیا جس کا عنوان ’ماحولیاتی تبدیلی، ٹرمپ کارڈ‘ تھا۔

کرسٹین ٹوڈ وِٹمین نے خبردار کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی نے دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے کہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ مضر موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کی پالیسیاں ختم کر دیں گے۔

منتخب صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ماحولیات اور توانائی کے بارے میں موجودہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں سے کاروباری دنیا کو نقصان ہو رہا ہے۔

لیکن مِس وِٹمین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسا راستہ تلاش کرے جس سے کرۂ ارض کو نقصان پہنچائے بغیر کاروبار کو فروغ ملے۔

اگرچہ ابھی تک ماحولیات سے متعلق مسٹر ٹرمپ کی مجوزہ حکمت عملی کی تفصیلات واضح نہیں ہیں، تاہم مسٹر ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان یہ کہتے رہے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ کے دور میں کوئلے پر انحصار میں اضافہ ہوگا، تیل کی نئی پائپ لائنیں کھولی جائیں گی اور آبادیوں سے دور سرکاری زمینوں پر کان کنی یا قطب شمالی پر کھدائی کی اجازت دے دی جائے گی۔

جہاں تک سیاسی میدان کا تعلق ہے تو مسٹر ٹرمپ کے حامی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ امریکہ کو ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معاہدے سے الگ کر لیں گے، صدر اوباما کے توانائی کے ماحول دوست منصوبوں کو ترک کر دیں گے، اور نہ صرف ادارۂ ماحولیات کو بند کر دیں گے بلکہ امریکہ کے ادارۂ توانائی کا بوریا بستر بھی لپیٹ دیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مِس ٹوڈ وِٹمین کا مزید کہنا تھا کہ یہ بڑی فکرمندی کی بات ہے کہ (مسٹر ٹرمپ) کے ہاں سائنسی تحقیق اور ماحول کو بچانے سے متعلق پالیسیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

’ میں جب اپنے خاندان اور دنیا بھر کے بچوں کے مستقبل کا سوچتی ہوں تو مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے کیونکہ قدرت ایک ایسی ماں ہے جس نے اپنے بچوں میں کبھی کوئی تفریق نہیں کی اور نہ ہی سیاسی اور جغرافیائی سرحدوں کا لحاظ کیا ہے۔ اگر ایک ملک کوئی مضر کام کرتا ہے تو اس کے اثرات دوسرے ممالک پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔‘

’ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے 97 فیصد سائنسدان کہہ رہے ہیں عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور لوگ قدرتی ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں، ان حقائق سے نظر چرانا۔ ۔ ۔ ہم واقعی اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں کوشش کرنا پڑی گی کہ ہم اپنی ترقی کی رفتار کو کم کر دیں بشرطیکہ ہم اس زمین پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔‘

ریپبلکن پارٹی کی اہم رکن کا مزید کہنا تھا کہ ’قدرتی ماحول کے بچاؤ کے لیے ان کی اپنی جماعت نے ماضی میں جو اقدامات کیے اور جو اثاثہ بنایا، مسٹر ٹرمپ تو اسے بھی ضائع کر رہے ہیں۔ مثلاً جارج بُش سینیئر نے سنہ 1992 میں ریو میں اقوام متحدہ کے معاہدے پر بھی دستخط کر دیے تھے۔اور ان سے پہلے ابراہم لنکن وہ پہلے امریکی صدر تھے جنھوں نے سرکاری زمینوں کو بچانے کا قانون بنایا تھا اور یہ ریپبلکن پارٹی کے رچرڈ نکسن ہی تھے جنھوں نے اینوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی قائم کی تھی۔‘

’ قدرتی وسائل اور ماحول کا تحفظ ہمیشہ سے ریپبلکن پارٹی کی پالیسی رہی ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ مسٹر ٹرمپ میرے خدشات کو غلط ثابت کریں گے، لیکن ان کی کابینہ میں تیل کے کاروبار کی دنیا کے کروڑ پتیوں کی اکثریت اتنی زیادہ ہے، کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔‘

’ہم چاہتے ہیں کہ توانائی پیدا کی جائے اور اس میدان میں دوسرے ممالک پر امریکہ کا انحصار ختم ہو جائے، لیکن مسئلہ یہ ہے وہ توازن کیسے قائم رکھا جائے ترقی بھی ہو اور لوگوں کی صحت اور ماحول بھی محفوظ رہیں۔ مسٹر ٹرمپ کے خیالات سنیں تو آپ کو لگتا ہے ان کی پالیسیوں میں اس قسم کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔‘