ریزر کی قیمت میں ’صنفی تعصب‘ کا خاتمہ

ریزر تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

برطانوی سپرمارکیٹ چین ٹیسکو نے عورتوں کے ڈسپوزیبل ریزر کی قیمت کم کر کے اسے مردوں کے اسی قسم کے ریزر کے برابر کر دیا ہے۔

یہ ان سرگرم کارکنوں کی جیت ہے جن کا خیال تھا کہ قیمتوں کا یہ فرق دراصل صنفی تعصب کی نشانی ہے۔

گذشتہ سال کارکنوں نے ذاتی استعمال کی کئی ایسے مصنوعات کی قیمتوں کی طرف توجہ دلائی تھی جن میں مردوں اور عورتوں کے لیے رکھی جانے والی قیمتوں میں فرق ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں برطانیہ میں قائم تمام چار بڑی سپر مارکیٹوں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا تھا۔

حالیہ کیس میں ٹیسکو عورتوں کے ریزر کے لیے مردوں کے ریزر کے مقابلے پر دوگنی قیمت وصول کر رہا تھا۔

لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمان پالا شیرف کے نام ایک خط میں ٹیسکو نے لکھا: 'اندرونی جائزے اور اپنے سپلائرز کے ساتھ بات چیت کے بعد ہم نے مردانہ اور زنانہ ڈسپوزیبل ریزز کی قیمتوں میں فرق پر پائی جانے والی تشویش پر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔'

ٹیسکو نے کہا کہ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ مردوں کے ریزر بہت بڑی تعداد میں بنتے اور بکتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔

ٹیسکو کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا: 'جو چیز ہماری رہنمائی کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے صارفین کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔ ہمارا عزم واضح شفاف، اور مسابقانہ قیمتیں پیش کرنا ہے۔'

گذشتہ برس ایک اخباری تحقیق کے دوران معلوم ہوا تھا کہ عورتوں اور اوسطاً 37 فیصد زیادہ قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔

2016 میں فاسیٹ سوسائٹی نے سپر مارکیٹوں میں بکنے والے ریزر، شیونگ کریم، بُو کش سپرے اور باڈی سپرے کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔

اس سے پتہ چلا کہ عورتوں کو 22 فیصد سے 56 فیصد تک زیادہ قیمتیں دینا پڑتی ہیں۔

پالا شیرف نے ٹوئٹر پر کہا کہ سرگرم کارکن 'صنفی قیمتوں کو رفتہ رفتہ ختم کرتے چلے جا رہے ہیں۔' انھوں نے دوسرے سٹوروں کو بھی خبردار کیا: 'ہوشیار، میری تم پر بھی نظر ہے!'