ٹرمپ روسی ہیکنگ کے تنازع پر دوبارہ امریکی انٹیلی جنس پر برس پڑے

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نومنتخب صدر کا ٹوئٹر پر ایک اور مشغول دن

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں روس کے سائبر حملے سے متعلق ایک بیان میں امریکی انٹیلی جنس کو دوبارہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

نومنتخب صدر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2016 کے انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے متعلق انھیں جو انٹلیجنس رپورٹ دی جانی تھی اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ 'شاید معاملہ تیار کرنے میں مزید وقت درکار ہے۔ یہ بہت عجیب بات ہے۔'

لیکن امریکی انٹلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ بریفنگ کے شیڈول میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔

ایف بی آئی اور سی آئی اے سمیت مختلف امریکی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ روس نے ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف ہیکنگ کا حکم دیا تھا اور وکی لیکس اور دوسرے ذرائع سے پریشان کن معلومات کو افشا کیا گیا تھا تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات میں کامیاب ہونے میں مدد مل سکے۔

ابتدا میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے ان دعوؤں کو 'مضحکہ خیز' کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا لیکن بعد میں کہا تھا کہ وہ امریکی انٹلیجنس کے سربراہوں سے 'حالات کے متعلق سچ جاننے کے لیے ملاقات کریں گے۔'

دریں اثنا رد عمل کے بعد رپبلکن پارٹی سیاسی بداخلاقی کے بارے میں جانچ کرنے والے خودمختار ادارے کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ کانگریس میں اخلاقیات کے دفتر کی آزادی کو ختم کرنے کے حق میں قانون سازوں کی جانب سے غیرمتوقع طور پر ووٹنگ کی گئی تھی اور اس کے خلاف عوام نے آواز بلند کی تھی اور پھر اس کے بعد ٹرمپ نے ٹوئٹر پر نرمی اختیار کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شمالی کوریا کے دعوے پر نومنتخب صدر کا ٹویٹ

معاملات پر پردہ پوشی کرنے والا یہ قدم کانگریس اجلاس کے پہلے دن چھایا رہا اور اسے ہنگامی میٹنگ کے ذریعے واپس لے لیا گيا۔

اس ادارے کا قیام سنہ 2008 میں اس وقت عمل میں آیا تھا جب کئی سکینڈلز کے نتیجے میں مختلف قانون سازوں کو جیل ہو گئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران واشنگٹن سے کرپشن کو ختم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا۔

ایوان کے سپیکر پال ریان اور رپبلکن جماعت کے رہنما نے اس قانون میں ترمیم کے خلاف بغیر کسی کامیابی کے دلائل دیے تھے لیکن پیر کی شب بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں اسے منظور کر لیا گیا تھا۔

جیسے ہی یہ خبر پھیلی تو گوگل کے مطابق 'میرا نمائندہ کون' کی تلاش میں دیکھتے ہی دیکھتے اضافہ دیکھا گيا۔

اس کے بعد ایک ہنگامی میٹنگ طلب کرکے اس فیصلے کو بدل دیا گيا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی انٹلیجنس اور اخلاقی کمیٹی کے بارے یہ بیان نو منتخب صدر کے اس بیان کے بعد آیا ہے جب انھوں نے شمالی کوریا کو اس کے جوہری عزائم پر خبردار کیا ہے اور اوباما کیئر سکیم کے اخراجات کو نشانہ بنایا ہے اور جنرل موٹرز کے میکسیکو کے کارخانے پر تنازع کھڑا کیا ہے لیکن کار بنانے والی کمپنی نے اس سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں