بنیامن نیتن یاہو کا فلسطینی کے قاتل فوجی کے لیے معافی کا مطالبہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اسرائیلی فوجی پرایک زخمی غیر مسلح فلسطینی حملہ آور کو قتل کرنے کا جرم ثابت

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوجی عدالت کی طرف سے ایک زخمی غیر مسلح فلسطینی حملہ آور کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیے جانے والے اسرائیلی فوجی کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوج کے اس معاملے سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا دفاع کیا لیکن اس کے ساتھ ہی سارجنٹ عازاریہ کے گھر فون کر کے ان کے خاندان کے ساتھ افسوس کا اظہار بھی کیا۔

بنیامن نیتن یاہو نے فیس بک پر مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں الور عازاریہ کو معافی دیے جانے کی حمایت کرتا ہوں۔‘

مذکورہ فوجی پر الزام ہے کہ اس نے ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کی مرتے ہوئے ویڈیو بنائی تھی حالانکہ اس وقت حملہ آور سے چاقو چھین لیا گیا تھا اور وہ غیر مسلح ہو چکا تھا۔

20 سالہ اسرائیلی فوجی، سارجنٹ الور عازاریہ نے 21 سالہ فلسطینی عبدالفتح الشریف کو اس وقت سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب عبدالفتح الشریف سڑک پر پڑے ہوئے تھے اور وہ ہلنے کے قابل بھی نہیں تھے۔

اس واقعے نے اسرائیلیوں کی آراء کو تقسیم کر دیا ہے۔ ادھر سرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ سارجنٹ عازاریہ کو اتوار کے روز سزا سنائی جائی گی۔

یہ واقعہ غرب اردن کے قصبے الخلیل (ہیبرون) میں مارچ 2016 میں پیش آیا تھا جس میں ایک دوسرے اسرائیلی فوجی کو چاقو کے وار سے زخمی کر دیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران سارجنٹ الور ازاریہ کا موقف تھا کہ انھیں شک تھا کہ عبدالفتح الشریف نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی۔ لیکن استغاثہ کا کہنا تھا کہ سارجنٹ عازاریہ نے عبدالفتح الشریف کو گولی مارنے کا قدم انتقام کے جذبے سے اٹھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تل ابیب سے بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں اس مقدمے کے حوالے سے بہت دلچسپی پائی جاتی ہے اور اس پر لوگوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

گذشتہ عرصے میں نہ صرف اسرائیلی فوجی کے حق میں جلوس نکالے جا چکے ہیں بلکہ ملک کے کچھ سینیئر سیاستدانوں نے فوجی کے حق میں بیانات بھی دیے ہیں، تاہم اسرائیلی فوج کے اعلیٰ افسران نے واقعے کے بعد فوراً کہہ دیا تھا کہ مذکورہ فوجی کا کردار اسرائیلی فوج (اسرائیلی دفاعی فورس) کی اقدار کی عکاسی نہیں کرتا۔

اسرائیلی وزیرِ تعلیم نفتالی بینٹ نے سارجنٹ الور عازاریہ کو معاف کرنے کی اپیل کی ہے۔

گذشتہ سال 24 مارچ کو عبدالفتح الشریف اور ان کے ایک 21 سالہ ساتھی رمزی القصراوی نے چاقو سے حملہ کر کے ایک اسرائیلی فوجی کو زخمی کر دیا تھا جس کے بعد وہاں پر موجود ایک دوسرے اسرائیلی فوجی نے فلسطینی حملہ آوروں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں جس سے شریف زخمی ہو گئے جبکہ قصرانی موقعے پر ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کے کئی منٹ بعد ایک فلسطینی نے جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو بنائی جس میں شریف کو زندہ دیکھا جا سکتا تھا۔ اس ویڈیو کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک اسرائیلی گروپ نے نشر کر دیا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی، جس کی شناخت سارجنٹ ازاریہ کے طور پر کی گئی، اپنی بندوق میں میگزین ڈالتا ہے اور کئی میٹر دور سے شریف کو گولی مارتا ہے جس سے ان کی موت ہو جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ویڈیو کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک اسرائیلی گروپ نے نشر کر دیا تھا

اس مقدمے میں استغاثہ کا موقف تھا کہ 'ایک ایسے وقت میں جب دہشتگرد زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا اور وہ سارجنٹ ازاریہ یا کسی دوسرے اسرائیلی فوجی کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا تھا، اس وقت (اس پر گولی چلا کر) سارجنٹ ازاریہ نے فوجی قوائد سے روگردانی کی اور ایک ایسی کارروائی کی جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘

بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے تین فوجی ججوں پر مشتمل پینل نے سارجنٹ ازاریہ کی یہ اپیل مسترد کر دی کہ انھوں نے عبدالفتح الشریف کو گولی اس لیے ماری تھی کیونکہ وہ اس وقت بھی ان کے لیے خطرہ تھے۔

جج کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت میں انھوں نے سارجنٹ ازاریہ کے اُس بیان کا بھی نوٹس لیا ہے جو انھوں نے واقعے کے فوراً بعد اپنی کمپنی اور پلاٹون کمانڈر کو دیا تھا۔ اُس بیان میں سارجنٹ ازاریہ نے یہ جواز نہیں دیا تھا کہ زخمی عبدالفتح الشریف اُس وقت بھی ان کے لیے خطرہ تھے۔

اسی بارے میں