’امریکی انتخابات میں روسی ہیکنگ کا مقصد ظاہر کیا جائے گا‘

ہلیری کلنٹن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلیری کلنٹن کو خفیہ دستاویزات اور ای میلز کے حوالے سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا

امریکہ میں انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین اہلکار نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس بارے میں رپورٹ پیش کی جائے گی کہ روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کیوں کی۔

ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جنرل جیمز کلیپر نے کہا کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن ڈیموکریٹک پارٹی کی ای میلز ہیک کرنے کا حکم دیا، اور اس کا مقصد اگلے ہفتے ظاہر کیا جائے گا۔

شکست کا ذمہ دار روس ہے: ہلیری کلنٹن

ٹرمپ روسی ہیکنگ کے تنازع پر دوبارہ امریکی انٹیلی جنس پر برس پڑے

امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بیرونی دخل اندازی کے بارے میں صدر براک اوباما کو جمعرات کو رپورٹ پیش کی گئی۔ اس رپورٹ کی تفصیلات سے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعے کو آگاہ کیا جائے گا جب کہ اس رپورٹ کے 'غیر خفیہ' حصوں کو اگلے ہفتے عام کیا جائے گا۔

اعلیٰ انٹیلی جنس حکام نے جمعرات کو سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے شہادت دی جو اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ روس نے ٹرمپ کو اپنی حریف ہلیری کلنٹن کو شکست دینے کی غرض سے مداخلت کی تھی۔

روس نے امریکہ کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن اوباما انتظامیہ نے ان الزامات کی بنیاد پر روس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے روس کی مبینہ دخل اندازی کے حوالے سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سینیئر اہلکار سوال و جواب کے لیے جمعرات کو کانگریس کے سامنے پیش ہوئے۔

یاد رہے کہ روسی ہیکروں پر انتخابی مہم میں مداخلت کے صدر اوباما کے الزام اور 35 روسی باشندوں کو امریکہ سے نکالے جانے کے علاوہ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکی خفیہ اداروں کی اس بات پر سوالات اٹھائے ہیں کہ ہیکنگ کے پیچھے روسی حکومت کا ہاتھ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس ہیکنگ کے الزامات سے انکار کرتا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کانگریس میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے افسران کی پیشی کے اگلے دن سی آئی اے کے افسران اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ایک ملاقات طے ہے جس میں مذکورہ افسران منتخب صدر کو اس حوالے سے بریفنگ دیں گے کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف بھی ہیکنگ ہوئی تھی اور اس کے پیچھے کون تھا۔

توقع ہے کہ کانگرس میں دونوں، ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی، کے ارکان اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی مہم میں مبینہ ہیکنگ کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کرنے جا رہا ہے۔

کانگرس کے کئی ارکان مسٹر ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تعریف اور امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

خفیہ اداروں کے جو افسران جمعرات کو کانگرس کی کمیٹی برائے مسلح افواج کے سامنے پیش ہوئے ان میں نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر مائیک روجرز اور دفاعی امور کے نائب وزیر مارسل لیٹرے شامل ہیں۔ کانگرس کی اِس کمیٹی کی سربراہی ریپبلکن پارٹی کے جان مکین کر رہے ہیں جو روسی صدر پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔

امریکہ کو درپیش ہیکنگ کے خطرے کے حوالے سے خفیہ اداروں کی پیشی سے ایک ہفتہ قبل صدر براک اوباما نے ان 35 روسی شہریوں کو امریکہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا جن پر شک ہے کہ وہ امریکہ میں روس کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔ امریکہ سے بے دخلی کے علاوہ صدر اوباما نے سنہ 2016 کے انتخابات میں مبینہ ہیکنگ کی وجہ سے روس کے دو خفیہ اداروں پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔

امریکہ کے خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ صدارتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی ٹیموں اور دیگر امریکی اہلکاروں کے کپمیوٹرز میں جو ہیکنگ ہوئی تھی اس کے پیچھے روس تھا۔ انٹرنیٹ سکیورٹی کی ماہر بہت سی نجی تنظیمیں بھی سرکاری خفیہ اداروں کی اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں کہ روسی ہیکروں نے انتخابی مہم کے دوران گڑ بڑ کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ روسی ہیکنگ کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح دلانا تھا

حالیہ عرصے میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ روسی ہیکنگ کا مقصد انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں ہیلری کلنٹن کو شکست دلانا تھا۔ ریپبلکن پارٹی کے کئی ارکان اتفاق کرتے ہیں کہ روسی ہیکروں نے انتخابات میں دخل اندازی کی تھی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح دلانا نہیں تھا۔

یاد رہے کہ امریکی انتخابات سے کچھ دن قبل ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی اور ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے سربراہ جان پوڈسٹا کے کمپیوٹروں سے کچھ دستاویزات خفیہ طریقے سے ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی تھیں جس سے ہیلری کلنٹن اور ان کے حامیوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں