گوانتانامو سے رہا ہونے والے قیدی سعودی عرب پہنچ گئے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدنامِ زمانہ گوانتانامو بے کو پھر سے بھرنا چاہتے ہیں

امریکی حراستی مرکز گوانتانامو بے سے رہا کیے جانے والے چار یمنی قیدی سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

ان قیدیوں کی رہائی سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ امریکی صدر باراک اوباما اقتدار چھوڑنے سے قبل حراستی مرکز میں موجود قیدیوں کی تعداد کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے ایک صحافی نے بتایا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے ریاض ایئر پورٹ پر غمزدہ خاندان والوں کو ان قیدیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اطلاعات کہ مطابق ان قیدیوں کو شاہی افراد کے لیے مخصوص ٹرمینل سے لایا گیا۔

دوسری جانب امریکہ کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز مزید قیدیوں کی رہائی کو روکنے کا کہا ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہے کہ 20 جنوری کو صدر اوباما کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سونپنے سے قبل 15 دیگر قیدیوں کو بھی منتقل کر دیا جائے گا۔

ان قیدیوں کو کم از کم چار ممالک جن میں اٹلی، اومان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں بھیجا جائے گا۔

آٹھ سال قبل جب صدر اوباما نے اقتدار سنبھالا تھا تو انھوں نے گوانتانامو بے کے متنازع حراستی مرکز کو مکمل طور پر بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تاہم امریکی کانگرس نے ان کے اس منصوبے کو روکا دیا، لیکن اگر مسلسل منتقلی کا عمل جاری رہا اور یہ 15 قیدی بھی رہا کر دیے جاتے ہیں تو حراستی مرکز میں تقریباً 40 قیدی ہی رہ جائیں گے۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدراتی مہم کے دوران کہا تھا کہ ’اس حراستی مرکز کو بند نہ کیا جائے اور اسے برے افراد سے بھر دیا جائے۔‘

منگل کے روز انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’گوانتانامو بے سے مزید لوگوں کو رہا نہ کیا جائے۔ یہ انتہائی خطرناک لوگ ہیں اور انھیں میدان جنگ میں دوبارہ جانے کی اجازت نہ دی جائے۔‘

اسی بارے میں